Friday, 20 March 2020

ھرڈ ایمیونٹی، کرونا کا علاج




"کرونا کا علاج "ھرڈ امیونٹی



ماہرین کےمطابق اگر ایک مرتبہ لوگوں کی اکثریت کرونا 
وائرس کا شکار ھو  جائے تو یہ وائرس خود بخود ختم ھو سکتا ھے۔
کرونا وائرس پر قابو پانے کے بنیادی طور پر تین طریقے ہیں ایک یہ کہ لوگوں کے میل ملاپ اور اجتماعات پر سخت پابندی عائد کر دی جائے اور تمام لوگوں کا کرونا وائرس ٹیسٹ یقینی بنایا جائے جس سے اسکی منتقلی کو روکا جا سکتا ھے۔ لیکن یہ اب مشکل اسلیے ھو چکا ھے کہ یہ دنیا کے 100 سے زاید ممالک میں پھیل چکا ھے ۔
دوسرا طریقہ ایسی ویکسین کی ایجاد ھے جو مکمل طور پر کارگر ثابت ھو۔ گو کہ تجربات تیزی سے جاری ہیں لیکن فی الوقت یہ تاخیر کا شکار ھے۔ 
اس وائرس پر قابو پانے  کا  تیسرا طریقہ یہ ھے کہ ہم اسوقت تک انتظار کریں کہ جب تک یہ لوگوں کی اکثریت کو اپنا شکار نہیں بنا لیتا اور لوگ خود بخود اسکے خلاف قوت مدافعت پیدا نہیں کر لیتے۔  لیکن اس  طریقہ کا نقصان یہ ہے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ  جانوں کے ضیاع کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔جو کہ شاید کوئ موزوں حل نہیں ھو گا۔ تیسرے طریقے کے مطابق اگر  اس وائرس کو لوگوں میں پھیلنے  دیا جائے تو جو لوگ اس سے متائثر ھونگے اگر وہ زندہ بچ جاتے ہیں تو وہ اس وائرس کے خلاف خود بخود قوت مدافعت پیدا کر لیں گے اور اس طرح یہ وائرس فطری طریقے سے ختم  ھو جائے گا یا لوگوں کی صحت پر زیادہ اثر انداز نہیں ھو سکے گا۔ کیونکہ اسکے  پھیل جانے اور اسکے نتیجے میں  لوگوں کی اکثریت کا اسکے خلاف قوت مدافعت پیدا کر لینے کی وجہ سے یہ اپنا نیا شکار ڈھونڈنے ناکام ھوجائے گا۔
ماہرین کے مطابق اس وائرس کا  بے قابو ھو کر دنیا میں پھیل جانا ایک بھیانک منظر نامہ پیش۔کر سکتا ھے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کی تقریباً 60 فیصد آبادی ایک سال کے اندر اندر اس سے متائثر ھو سکتی ھے۔ یہ اعدادوشمار وبائ امراض کے ماہرین کی طرف سے دیے گئے ہیں جنکے مطابق  اعداد وشمارکے اس نقطہ  پر پہنچ کر لوگوں کی اکثریت کی یا اجتماعی قوت مدافعت  یعنی ھرڈ ایمیونٹی کے نظریہ کو اپنا کام شروع کر دینا چاہئے۔
برطانیہ کے سائنس ایڈوائزر پیٹرک ویلنس نے بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا ھے کہ برطانیہ میں ھرڈ ایمیونٹی یعنی لوگوں کی اکثریت میں فطری طور پر اس وائرس کے خلاف قوت مدافعت کو پنپنے دیا جائے تو ہی اس وائرس کی پھیلاؤ کو ختم کیا جا سکتا ھے۔ 
ھالینڈ کے پرائم منسٹر نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ھوئے کہا ہے  کہ کرونا وائرس کی پھیلاؤ کو کم سے کم کر کے ایک کنٹرول طریقے سے وائرس کے خلاف گروپ ایمیونٹی کو قابل عمل بنایا جائے تا کہ اس وائرس کو مستقبل میں بے ضرر بنایا جا سکے۔
موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ھرڈ ایمیونٹی شاید ایک بہتر اقدام ثابت  نہ ہو کیونکہ اسکی وجہ سے لوگوں کی اکثریت کے بیمار ھونے کا خطرہ ھے اور برطانیہ کے  نیشنل ہیلتھ سروسز پر ایک دم ناقابل برداشت بوجھ پڑ سکتا ھے۔ ان حالات کے پیش نظر برطانوی حکومت نے وائرس پر قابو پانے اور پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تاخیری حربے کو اپناتے ہوئے تا حکم ثانی سکول بند کرنے، عوام کو گھر سے کام کرنے کی تاکید کی ھے اور بغیر وجہ کے باھرنکلنے اور اجتماعات  کی حوصلہ شکنی کا فیصلہ کیا ہے۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے تاخیری حربہ سے فایدہ یہ ھو گا کہ نیشنل ہیلتھ سروسز پر شاید اتنا بوجھ نہ پڑے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو  بچانا ممکن ھو سکے۔ لیکن عین ممکن ہے کہ کورونا وائرس کی وباکے پھیلاؤ پر قابو پا لینے   کے بعد بھی شاید اس وائرس کے خاتمہ کے لیے  ہمیں  ھرڈ ایمیونٹی  کا سہارا لینا پڑے۔ 
 بہت سے لوگ شاید ھرڈ ایمینوٹی کے نام سے واقف نہ ھوں۔ ھرڈ ایمیونٹی ایسا عمل ہے کہ جس میں لوگوں کی اکثریت کسی جراثیم کے خلاف فطری طور پر قوت مدافعت پیدا کر لیتی ھے اور وہ اس جراثیم کے خطرے سے محفوظ ھونے کے ساتھ ساتھ اسکے عدم پھیلاؤ کا باعث بنتے ھوئے اسکا تدارک میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔  جیسے اگر کسی کو  ایک بار بچپن میں  چکن پاکس  ھو جائے تو وہ اپنی بقیہ زندگی میں اس سے محفوظ ھو جانے کے ساتھ ساتھ  اسکے پھیلاو کا باعث نہیں بنتا۔ یعنی وہ اس جراثیم کے خلاف قوت مدافعت پیدا کر لیتا ھے۔ 








Wednesday, 4 March 2020

ھذا من فضل ربی





 ھذا من فضل ربی



نماز میں دوسرا سلام پھیرتے ہی اپنے بائیں جانب کاشی کی نظر  ایک شخص پر پڑی تو  اسے ایسا محسوس ھوا جیسے شاید وہ اسے جانتا ھو۔ دعا سے فراغت کے بعد کاشی  کی اس شخص سے علیک سلیک ھونے پر معلوم ھوا کہ رشید اور کاشی دونوں  سکول میں ایک ہی کلاس میں پڑھا کرتے تھے۔ رشید کا خاندان اپنے کام کی وجہ سے لاھور منتقل ھو چکا تھا اور کافی عرصہ کے بعد اپنے ایک نجی کام کی غرض سےاپنے آبائی شہر میں اسکا آنا ھوا تھا۔ رشید کو اپنے آبائ شہر میں واضح تبدیلی نظر آرہی تھی۔ یہ چھوٹا سا شہر پھیل کر اب کافی بڑا اور گنجان آباد ھو چکا تھا، ہر طرف نئ دکانیں اور شاپنگ پلازے کھل چکے تھے  اور لوگوں کے طرز زندگی میں بھی نمایاں تبدیلی آ چکی تھی۔  کاشی کے پوچھنے پر رشید نے اسے بتایا کہ اسکے والد کے نام 10 مرلے زمین کا ایک پلاٹ تھا جسے وہ بیچ کر اپنی بہن کی شادی کر کے اپنی زمہ داری سے سبکدوش ھونا چاھتا ھے۔ لیکن یہاں پہنچ کر اسے معلوم ھوا کہ اس زمین کے کچھ حصے پر کسی نے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ھے اور قبضہ گروپ کا تقاضا ھے کہ پانچ لاکھ رقم کے عوض وہ قبضہ چھوڑنے کو تیار ہیں۔  
یہ سن کر کاشی کی آنکھوں میں چمک سی آ گئ اور دل ہی دل میں سوچنے  لگا  کہ رزق میں اضافے کے تعویذ  کی برکت نے تو کمال ہی کر دیا ، آج تو رزق خود چل کر اسکے پاس آیا ھے۔ کاشی ایک بینک میں کام کرتا تھا تنخواہ بھی کافی معقول تھی جس سے اسکےگھر کا نظام نہایت احسن طریقے سے چل رہا تھا۔ لیکن اسکے ساتھ ساتھ وہ رضاکارانہ طور پر لوگوں کے ان مسائل کہ جن سے اسکے رزق میں مزید اضافہ کی توقع ممکن ھوتی تھی، کی گتھیاں سلجھانے میں بھی انکی کافی معاونت کرتا تھا۔ کاشی نے رشید کو ایک مفید مشورہ دیتے ھوئے کہا  "  قبضہ کو چھڑانے کے لیے بار بار عدالت کے چکر لگانے اور پیسہ ضائع کرنے کی بجائے قبضہ گروپ سے رقم طے کر کے ان سے اپنی جان چھڑوا لو تو زیادہ بہتر ھو گا وگرنہ تمہارا کون  بار بار لاھور سے یہاں آ کر تاریخیں بھگتے گا"۔ رشید نے کچھ دیر سوچنے کے بعد اسے کہا " میں اس زمین کا اصل مالک ھوں اور انکا یہ قبضہ ناجائز ھےجسکے وہ پانچ لاکھ مانگ رہے ہیں "۔ لیکن کاشی نے اسے سمجھایا کہ بھائ جان آج کل یہاں ایسا ہی چل رہا ھے، لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کر کے انہیں مقدمے میں الجھا کر اصل مالک سے جتنی ممکن ھو سکے  رقم بٹور لی جاتی ھے۔
 کاشی نے رشید کو اپنے گھر چائے پر مدعو کیا، رشید کوئ بہانا بنا کر اسے ٹالنا چاہتا تھا مگر  کاشی کے اصرار پر  رشید اسکے ساتھ اسکے گھر چل پڑا ۔  گھر میں داخل ھونے سے پہلے رشید کی نظر گیٹ پر لگی ھوئ سنہرے رنگ کی ایک تختی پر پڑی جس پر سیاہ رنگ میں  ''ھذا من فضل ربی''  لکھا ھوا تھا۔  رشید کاشی کا دو منزلہ گھر جس پر سفید سنگ مر مر لگا ھوا تھا اور ڈرائنگ روم جہاں ہر چیز قرینے سے رکھی گئ تھی کو  دیکھ کر کافی متائثر ھوا۔  دونوں خوش گپیوں میں مصروف ھو گئے اور اپنے زمانہ طالب علمی کو یاد کرنے لگے ۔ چائے پینے کے بعد رشید نے  کاشی سے رخصت چاہی، الوداع کرتے ھوئے کاشی نے اس سے کہا " تم اچھی طرح سوچ لو اور  میں قبضہ گروپ کی ٹوہ لیتا ھوں کہ وہ کیا چاہتے ہیں"۔ 
دوسرے دن مسجد کے باھر کاشی کی ملاقات دوبارہ رشید سے ھوئ جس پر کاشی رشید کو خوشخبری سنائ  کہ آج ہی اسکی بات قبضہ گروپ سے ھوئ ھے اور وہ 4لاکھ کی رقم لینے پر شاید راضی ھو جائیں۔ ساتھ ہی رشید کو یہ بھی بتایا کہ زمینی تنازعات کے مقدمات پر 4 لاکھ سے زیادہ کی رقم خرچ ھو سکتی ہے اور وقت علیحدہ سے برباد ھو گا۔  رشید کچھ سوچ میں پڑ جاتا ھے اور پھر رقم دینے کی حامی بھر لیتا ھے۔ 
اگلے دن کاشی،  رشید اور قبضہ گروپ کے سرغنہ قیوم  کو اپنے گھر چائے پر مدعو کیا جہاں کچھ دیر کی ٹال مٹول کے بعد  معاملات طے پا جانے پر کاشی اپنے ہم جماعت دوست کو اسکی زمین کا قبضہ دلانے میں کامیاب ھو گیا۔ دوسرے دن شام کو کاشی نے اپنےگھر آ کر اپنے کمرے کی  الماری کھولی  جہاں ایک کونے میں چسپاں رزق میں فراوانی کے تعویذ کے پاس پہلے سے ہی کچھ رقم پڑی تھی ، کاشی نے اپنی جیب میں موجود رقم نکال کر گنی اور پورے پچاس ھزار روپے پہلے سے  موجود پیسوں کے ساتھ رکھتے ہوئے اپنی بیوی سے  خوشی خوشی کہا، " ماشاءاللہ رزق میں اضافہ کرنے والا وظیفہ اور تعویذ انتہائ کار گر ثابت ھو رہے ہیں"۔ جس پر اسکی بیوی کافی خوش ھوئ اور اسے بتایا  کہ آج بھائ قیوم کا بیٹا کھجوریں  اور زم زم کا پانی دے گیا تھا کہہ رہا تھا کہ یہ ابو نے بھجوائ ہیں وہ ایک ہفتہ پہلے حج سے واپس لوٹے ہیں۔ 

Tuesday, 29 October 2019



پاکستان سے پالستان تک کا سفر۔


مطالعہ پاکستان ایک ایسا مضمون یا مشین کہہ لیجئے ہے جسکا بر صغیر کی  ھزاروں سالہ تاریخ کو کوزے میں انتہائ مہارت سے بند کر نے میں کوئ ثانی نہیں۔  یہ ہماری پاکستانی قوم  کی آج تک کی  ایک ایسی ایجاد ہے جو  ٹائم مشین کا کام کرتے ہوئے پورے ھندوستان کی تاریخ کو فاسٹ فارورڈ کر کے انتہائ خوبصورتی سے  تقسیم ہند تک لے آتی ھے اور پھر اسکے بعد ایکدم پاکستان کی تاریخ شروع ھو جاتی ہے جسے جب  اور جیسے چاہا کی بنیاد پر ضرورت کے مطابق  فاسٹ فارورڈ بھی  کر لیا جاتا  ھے۔ 
لفظ پاکستان کے خالق چوھدری رحمت علی کے مطابق "پ" پنجاب سے "الف" افغانیہ سے "ک" کشمیر سے، "س" سندھ سے اور "تان" بلوچستان سے لے کر ایک نام تخلیق کیا گیا جسے  پاکستان کا نام دیا گیا۔ ان تمام حروف کی ترتیب بدل دی جائے یا کوئ حرف حذف کر لیا جائے  تو پاکستان لفظ  کا وجود  خطرے میں پڑ جاتا ھے ۔ شاید یہ چوہدری رحمت علی خان صاحب کی دور بینی ہی تھی جو  بنگال کو لفظ پاکستان میں شامل نہیں کیاکہ مبادا مستقبل کے حالات کے پیش نظر لفظ پاکستان کی سالمیت خطرے میں پڑ جائے۔ اور دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ اس مرد قلندر کی مستقبل شناسی کی وجہ سے بنگال کے علیحدہ ھونے کے باوجود  "لفظ"  پاکستان کی سالمیت پر کوئ آنچ نہ آ سکی ویسےبھی بنگال کی تو لفظ پاکستان میں کوئ گنجائش بنتی ہی نہ تھی۔ اب اگر ان تمام حروف جن سے مل کر پاکستان بنا ھے  "پ"  پنجاب کے علاؤہ افغانیہ، سندھ، بلوچستان، اور کشمیر کے حالات کو اگر دیکھا جائے تو ان میں محرومیوں کے آثار زیادہ  پائے جاتے ہیں۔ یہاں کی عوام کسی نہ کسی شکل میں حکومت یعنی  "پ " سے خائف ہی رہتے ہیں۔ ان علاقوں کی محرومیوں کا اندازہ وہاں پر موجود عوامی کو دی گئ  سہولیات سے بخوبی لگایا جا سکتاھے۔ بلوچستان اور سندھ کے بیشتر علاقے تو اب بھی سولہویں صدی میں جی رہے ہیں۔ یہ  وہ علاقے ہیں جو پاکستان کے براہ راست کنٹرول میں ہیں لیکن بقول مطالعہ پاکستان ایک حرف "ک" کشمیر جو اسکے براہ راست کنٹرول میں تو نہیں لیکن اسے شہہ رگ کی حیثیت حاصل ہے اور حالت یہ ھے کہ آدھی سے زیادہ شہہ رگ پر ھندوستان کا قبضہ ھو چکا ھے۔اب اگر چوھدری رحمت اللہ صاحب کے فلسفہ لفظ پاکستان کو مد نظر رکھا جائے تو تصویر کچھ یوں بنتی  ھے کہ "ک" یعنی کشمیر کی دم تو ھندوستان نے کاٹ لی ھے پیچھے دم کٹا "ک" رہ گیا ھے۔ یعنی۔ چوہدری  صاحب کا فلسفہ  پاکستان سے شروع ہو کر  پالستان تک آن پہنچا ھے۔ اب مستقبل میں اس فلسفہ کیساتھ کیا کیا ھونا ھے یہ مطالعہ پاکستان کی ٹائم  مشین  بنانے والوں پر منحصر ہے کہ وہ اسے کتنا فاسٹ فارورڈ کرسکتے ہیں۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ  شہہ رگ کے بغیر کسی بھی وجود کا زندہ رہنا ناممکنات میں سے ہے۔ یا تو ہمیں یہ تسلیم کرنا ھو گا کشمیر شہہ رگ نہیں ھے ، یہ آدھی ہو ، پوری ھو یا پھر نہ ھو اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا،  یا  یہ کہ لفظ پاکستان کا فلسفہ اب اتنا جاندار نہیں رہا، یا پھر یہ کہ یہ ایک من گھڑت بات ہے ۔ 
 مسئلہ کشمیر جو گزشتہ 71 سالوں سے ابھی تک حل طلب ھے۔ اس دوران پاکستان اور کشمیر کےلوگوں نے کتنے نشیب و فراز دیکھے لیکن یہ قضیہ جسے شہہ رگ بھی کہا جاتا ھےمزید الجھتا ہی گیا۔ آج یہ حالات ہیں کہ بھارت نے کشمیر کو باقاعدہ اپنا حصہ بنا لیا ھے لیکن افسوس کہ شہہ رگ کا راگ الاپنے والوں کو اپنی شہہ رگ کٹ جانے کا احساس تک نہیں ھوا۔ 
ایک وقت ایسا بھی تھا کہ جب کشمیر میں لوگ اپنا  تن من دھن پاکستان کے لیے قربان کرنے کو تیار تھے لیکن وقت کے تھپیڑوں نے آہستہ آہستہ لوگوں  کے دلوں میں ایک متبادل سوچ  کو جنم دیا جو خود مختار کشمیر کی شکل میں سامنے آنا شروع ھوئ۔ یہ سب کیسے ممکن ھوا؟   جو لوگ پاکستان کو اپنا محور مانتے تھے انکے دل میں ایک ازاد اور خود مختار ریاست کا بیج کیسے پیدا ھو گیا؟  یہ لوگ ایک متبادل رستے کے انتخاب پر کیوں مجبور ھوئے۔؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر آجتک مملکت خداد سوچنے اور سمجھنے سے قاصر رہی ھے۔۔ 
ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے کے لیے، ہمیں اس محور یعنی مملکت خداد پاکستان  کا تنقیدی جائزہ لینا ھو گا جن سے انکے اپنے لوگ دن بدن خائف ھوئے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے حالات شروع دن سے ہی اس قدر غیر مستحکم رہے ہیں کہ یہ کسی کی کیا خود اپنی مدد کرنے سے قاصر رہا ہے۔ ملک میں ہمیشہ سے ایک طبقہ حاکم چلا آیا ہے اور دوسرا وہ طبقہ ہے جو انکے رحم و کرم پر زندگی گزارنے پر مجبور ھے جسکا بڑا حصہ عوام پر مشتمل ہے۔ یہ حاکم طبقہ محکوم  طبقے کی کبھی مذھب کے نام پر اور کبھی وطن کے نام پر گاہے بگاہے برین واشنگ کرتا رہتا ھے تا کہ   کسی نہ کسی شکل میں اپنی اجارہ داری قائم  رکھ سکے۔ اس عمل کے لیے مفاد پرست عناصر اس حاکم طبقے کے تلوے ہر وقت چاٹنے پر مامور رہے تا کہ انہیں بھی اس میں سے بقدر ضرورت حصہ عنایت فرمایا جائے۔
 مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان کی کاوشوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو پاکستان جس نے ہمیشہ ھر فورم پر مسئلہ کے حل کے لیے  اقوام متحدہ کی قراردادوں پر ہمیشہ "کہنے کی حد تک"  زور دیا۔  پاکستان  نے چار جنگیں کشمیر کے نام پر  تو لڑ لیں لیکن  اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے سے پس وپیش سے کام لیا جاتا رہا۔ حکمرانوں کے اس رویہ سے حکومت پاکستان کا کشمیر سے والہانہ عشق کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ھے۔ حالت یہ ھو چکی ہے کہ شہہ رگ کا راگ الاپنے والوں کی شہہ رگ تو کٹ چکی ھے مگر وہ پھر بھی کس قدر کمال ہوشیاری سے زندہ ہیں یہ کوئ ان سے سیکھے۔ 
بحیثیت کشمیری آج اگر پاکستان کے حالات پر نظر دوڑائ جائے تو  معلوم ھو گا کہ ایسے حالات میں کسی بھی قسم کے  مستحکم مستقبل کی ضمانت نظر نہیں آتی ۔  ایک عام   کشمیری بھی یہ سوچنے پر مجبور ھو چکا ھے کہ کب تک ہم اس نظام کا حصہ بننے کی سعی لا حاصل کرتے رہیں گے جو اندر سے کھوکھلا ھو چکا ھے۔ کشمیر کو آزاد دیکھنے والے کشمیری اب ان بے تعبیر خوابوں اور نظام سے تنگ آ چکے ہیں، اور ریاست کی  مکمل آزادی کا خواب دیکھنے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ھوتا جا رہا ھے جن میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ھے، یہ وہی نوجوان ہیں جو آنے والے کل میں  کشمیر کا مستقبل بنیں گے۔  خودمختار کشمیر کی بات کرنے والے لوگوں کی سوچ صرف کشمیر کی خودمختاری پر ہی محیط نہیں ھے بلکہ وہ اسکے ساتھ ساتھ  ایک ایسی ترقی پسند سوچ کے بھی قائل ہیں جہاں جمھوری حکومتیں برادریوں، وڈیروں اور ان دیکھی مخلوق کے دم پر نہیں بلکہ خالصتاً عوام کے ووٹ کی طاقت پر قائم ھونگی،  منافقانہ نظام کا خاتمہ  ھو گا، جہاں پر لوگوں کے حقوق کو غصب نہیں کیا جائے گا بلکہ سب کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع اور حقوق حاصل ہوں گے اور جہاں ایک مزدور کو بھی ایک با عزت زندگی گزارنے کا حق مل سکےگا۔ 
آج جو لوگ الحاق پاکستان کی بجائے خودمختار کشمیر کی بات کرتے ہیں وہ پاکستانی حکام کے منافقانہ اور متعصبانہ نظام سے تنگ آ چکے ہیں۔ انہیں جب سندھ ، بلوچستان اور پشتونوں  کے حالات نظر آتے ہیں تو وہ بھی  کشمیر کے پاکستان سے الحاق  سے  کچھ زیادہ پر امید نظر نہیں آتے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں قوم پرست  اپنی قومی آزادی اور ترقی پسندانہ نظریات کی بات پہلے سے زیادہ کھل کر کر رہے ہیں۔

Saturday, 28 September 2019

اقوام متحدہ، تقریریں اور ہمارے اعمال



اقوام متحدہ، تقریریں اور ہمارے اعمال


کل جنرل اسمبلی میں ھونے والی تقریب میں  خانصاحب کی تقریر بڑی اچھی اور مدلل تھی ۔ خانصاحب نے اسلام کا مقدمہ بھی لڑا، پاکستان کو کیسے دہشت گردی کے گرداب میں جھونکا گیا اس پر مفصل بات کی اور ھندوستان جو اسوقت دنیا کی سب سے بڑی جمھوریت کے راگ الاپ رہا ھے  کا مکروہ چہرہ بھی دنیا کے سامنے پیش کیا۔ 
ایک کشمیری ھونے کے ناطے سے میرا فوکس کشمیر ایشو پر ہی ھو گا،  دیکھنا یہ ھے کہ اس سے  پاکستان اور  مسئلہ کشمیر کو کتنا فایدہ ھوسکتا ھے۔ کیا اس تقریر سے دنیا اب پاکستان کو دہشت گردی سے منصوب کرنا چھوڑ دے گی؟، یا مسئلہ کشمیر حل ھو جائے گا؟   
خانصاحب کے مطابق ھندوستان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایک اور پلوامہ ھو بھی ھو سکتا ھے۔ اب یہاں پر تھوڑا سا توقف فرمائیں اور نیوٹرل ھو کر یہ سوچیں!  کہ کشمیر میں جہادی گروپس کو پاکستان کی ہر طرح کی حمایت حاصل تھی، اگر پلوامہ طرز کا ایک اور حملہ ھوتا ھے تو دنیا ترکی، ایران یا چین پر شک نہیں کرے گی بلکہ اس کے تانے بانے وہیں ملائے جائیں گے جہاں سے پہلے نام نہاد مجاھدین کو مدد ملتی رہی ھے۔ اب دنیا خانصاحب کی بات پر کیسے یقین کر لے کہ پاکستان  اب اچھا بچہ بن گیا ھے اور اسکا کسی قسم کی جہادی گروپس سے تعلق نہیں ھے۔ 
جب خانصاحب کشمیر میں ھونے والے ہیومین رائٹس وائلیشن اور حق خود اختیاری  کی بات کر رہے تھے  تو دنیا اس شش و پنج میں مبتلا تھی کہ ھندوستان تو کشمیر میں ہیومین رائٹس کی وائلیشن کر رہا ھے مگر  آزاد کشمیر میں بھی اپنے حق رائے دہی کو مانتے ہوئے خودمختار کشمیر کے حامی اور نعرے مارنے والوں کو غائب یا گرفتار کر کے ان پر تشدد کیا جاتا ھے  تو پھر پاکستان جس حق خود ارادیت اور ہیومین رائٹس وائلیشن  کی بات کرتا ھے وہ کس بلا کا نام ھے؟ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا اپنی عقل سے کام لیتی ہے  نہ کہ ادھار لی گئ عقل سے۔  جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ازاد کشمیر کے حالات سے دنیا واقف نہیں ھے تو وہ لوگ ابھی تک کنویں سے باھر ہی نہیں نکل سکے، انہیں اگر کنویں سے باھر نکال بھی دیا جائے تو گھبرا کر واپس کنویں میں چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ 
مسئلہ کشمیر گزشتہ 71 سال سے جاری ھے لیکن۔ حالیہ سچویشن آرٹیکل 370 اور 35a کے ہٹائے جانے کے بعد پیدا ھوئ ھے جو کہ کرفیو کی صورت میں اب بھی قائم ھے۔ آرٹیکل 370 کو ختم کرنے سے بھارت نے کشمیر کو باقاعدہ طور پر اپنا حصہ بنا لیا ھے جو کشمیریوں کو کسی بھی صورت میں نامنظور ھے لیکن جنرل اسمبلی میں خانصاحب نے  370 کے ہٹائے جانے اور کشمیریوں پر شب خون مارنے کی بھر پور مذمت کرنے کی بجائے صرف کرفیو سے پیدا ھونے والی مشکلات ، اور کرفیو کے ہٹائے جانے پر کشمیریوں کا رد عمل سے آگاہ کیا ھے۔ حالانکہ ھونا تو یہ چاہئے تھا کہ آرٹیکل 370 کو بنیاد بنا کر ھندوستان کے اس عمل پر ھندوستان کو خوب اڑے ھاتھوں لیا جاتا اور دنیا کو باور کرایا جاتا کہ بھارت کا یہ عمل ناقابل قبول ہے۔۔مگر کیسے۔۔۔ دنیا یہ بھی جانتی ھے کہ بھارت نے جو کام آج کیا ھے وہی کام پاکستان نے معاہدہ کراچی کے تحت گلگت بلتستان کے ساتھ 1949 میں کر لیا تھا۔ 
آپ دنیا میں جتنا مرضی شور مچاتے رہیں، لمبی لمبی اور جزباتی تقریریں کرتے رہیں لیکن دنیا آپکو آپکے اعمال کی وجہ سے پہنچانے گی۔ قول و فعل میں اگر تضاد نظر آئے تو دنیا آپکی باتوں کو کبھی بھی سنجیدہ نہیں لے گی۔ ہمارے وکیل عرف بڑے بھای جان صاحب کے پاس مسئلہ کشمیر کا صرف ایک ہی حل ہے اور وہ یہ کہ پاکستان ہی کی وکالت سے یہ مسئلہ حل ھو گا اور پچھلے 71 سالوں سے یہی کرتے آئے ہیں ، لیکن دنیا ھے کہ ہمارے وکیل کو خاطر ہی میں نہیں لاتی،  نالائق سے نالائق انسان بھی یہ بات سمجھ سکتا ھے کہ اگر آپکا وکیل کمزور ھو تو تبدیل کر کے کوئ اور وکیل کیا جا سکتا ھے یا مقدمہ خود بھی لڑا جا سکتا ھے۔ اگر ہمیں واقعی مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے وکیل ہی کی ضرورت ہے تو پھر پہلے ایسے وکیل سے جان چھڑانی پڑے گی جو آپکا مقدمہ اس شرط پر لڑ رہا ہے کہ جیتنے یا ہارنے کی صورت میں آپکی  جائداد کے مالک وکیل صاحب ہی ھوں گے۔ اپکو کسی ایسے وکیل کی تلاش کرنا ھو گی جو نیک نیتی سے اپکا مقدمہ عوام کی خواہشات کے مطابق لڑے، وکیل ہی کرنا ھے تو پاکستان کی بجائے ترکی کو وکیل کر لینے میں کیا حرج ھے۔۔۔۔ لیکن میں سمجھتا ھوں کہ ہمیں  خود اپنے آپ کو اس قابل بنانا ھو گا کہ ہم اپنا مقدمہ خود پیش کر سکیں۔  دنیا کی کوئ بھی عدالت مظلوم کے بڑے بھائی یا مامے کی بجائے مظلوم کی بات کو زیادہ توجہ سے سنے گی۔۔تمام حربے اب استعمال کیے جا چکے ہیں،  مسئلہ کشمیر کے  لیے جب تک حکومت آزاد کشمیر کو مکمل خود مختار ریاست تسلیم کر کے اسے اپنا مسئلہ اقوام متحدہ میں پیش کرنے نہیں دیا جاتا مسئلہ کشمیر اسی طرح لٹکا رہے گا۔   اگر اسکے انقلابی حکومت بھی قائم کرنا پڑ جائے تو میں یہ سمجھتا ھوں کہ ہمیں اس کے لیے کسی بھی پس و پیش سے کام  نہیں لینا چاہئے۔ 
توقیر لون۔

Tuesday, 17 September 2019

پہولے بادشاہ



پہولے بادشاہ


ہم میں وہ لوگ بھی موجود ہیں جن کے پاس دلیل جب ختم ھو جاتی ھے تو گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں یا پھر اپنے مخالف کے خلاف بغیر سیاق و سباق کے باتیں پھیلا کر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت غداری کے فتوے جھاڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان لوگوں کا مقصد سچائ کو جاننا نہیں ھوتا بلکہ بھولے پن میں وہ ان قوتوں کا ساتھ دے رہے ھوتے ہیں جو ہمیشہ کے لیے قابض رہنا چاہتیں ہیں۔  ہماری تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ھے۔
آج ہم فاطمہ جناح کا نام نہایت ادب و احترام سے لیتے ہیں ان کی عزت و تکریم کرتے ہیں لیکن ماضی میں اگر دیکھا جائے تو ہم نے ان کے ساتھ جو برتاؤ کیا وہ کوئ اتنا لائق داد و  تحسین نہیں تھا۔ فاطمہ جناح نے جب  اس دور کے حکمرانوں کو آئینہ دکھایا تو اسوقت کے حکمران نے انکےخلاف محاذ کھڑا کر دیا ۔ انکے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش شروع کر دی گئ  ان پر غداری کے فتوے دیے گئے بلکہ یہاں تک کیا گیا کہ ایک کتیا کے گلے میں لالٹین جو کہ ان کا انتخابی نشان تھا ڈال کر سڑکوں پر گھمایا گیا۔ ہمیں تو اپنی تاریخ پڑھنے کا شاید حوصلہ بھی نہیں ھے کیونکہ  ہمیں یہ سوچنے پر ندامت محسوس ہوتی ہے کہ آخر  وہ کون لوگ تھے جو اسوقت کے حاکم  کا ساتھ دے کر اس گھناؤنی سازش میں شریک جرم تھے اور  وہ کیسے لوگ ھوئے ھوں گے جو اس سارے واقعے پر تماش بین بنے رہے؟ یہ سازشی ٹولہ اور سب تماش بین  بھی تو پاکستان کے ہی رہنے والے تھے ، لیکن۔۔۔۔  خاموش رہے۔ 
ہمیں یہ سوچ کر زیادہ تعجب شاید نہ ھو کیونکہ ہمارا
ماضی ایسی مثالوں سے بھرا پڑا ھے،  اگر واقعہ کربلا میں  معرکہ حق و باطل کو  دیکھا جائے تو ہمیں وہ مسلمان بھی دکھائ دیں گے جو اسوقت یزیر کی صفوں میں تھے اور امام عالی مقام  کے خلاف فتوے دینے میں مصروف عمل تھے۔
سوچنے کا مقام ہے کہ اگر آج اپکو اپنے معاشرے میں تعصب، لوگوں کے حقوق کا غصب ھونا، معاشی استحصال، بلا وجہ غداری کے فتوے، اختلاف رائے پر منفی پروپیگنڈے، کسی کو اپنی رائے رکھنے کا حق نہ دینا۔ قوموں کو اپنی طاقت سے غلام بنائے رکھنا، انکے سیاہ و سفید کا مالک بن جانا، منافقت، جھوٹ اور اقربا پروری نظر نہیں آ رہی ھے یا آپ اسکے خلاف بات کرنے سے کتراتے ہیں تو سمجھ لیجئے کہ  آپ بھی کہیں ان بھولے بادشاہوں میں سے تو نہیں ہیں جن کے بارے میں آج ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ!  وہ کیسے لوگ ہوئے ھوں گے جو امام عالی مقام کی بجائے یزید کی صفوں میں شامل تھے۔۔سوچئے گاضرور۔

آخر میں یہ کہوں گا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ میری تحریر پاک فوج کے خلاف ہیں تو انہیں یہ معلوم ھو جانا چاہئے کہ میرا حرف تنقید اور اختلاف ان اقتدار پسند طاقتوں سے ھے جو آئین پاکستان کی پامالی کرتے ھوئے اقتدار پر بالواسطہ یا بلا واسطہ ماضی میں اور اب بھی  براجمان ہیں۔ میرے والد اور والدہ دونوں کی طرف سے پاک فوج اور فضائیہ میں اعلی خدمات انجام دیتے رہے ہیں جن پر مجھے اب بھی فخر ھے اور انکے اعلیٰ اقدار اور اخلاق، م لیے ہمیشہ مشعل راہ رہیں گے۔ جو لوگ ریشہ دوانیوں میں مصروف ہیں انکے لیے پیغام ہے کہ تنقید کا جواب دلیل اور اعلی ظرفی سے دیا جاتا ھے نہ کہ منفی پروپیگنڈے کرنے سے۔

Sunday, 8 September 2019

دکھنی رگ


آزاد کی فر آزاد کرو

ہک عرض کراں جے تساں سن لو تے
 ساڑھی آزادی نا پہار کیاں چایا سی
کیاں بنڈیاں پستولاں جواناں وچ
 مروایا  پراہواں تے شیر جواناں کی
کدوں تھوں سننے آئے آں
چار جنگاں  کشمیر  اپر لڑیاں
 احساناں نی پنڈ  مونڈھے اپر سٹی
آزادی نا خواب تکایا نے
تس ساڑھے پیارے پہائ جان او
تساں کی پہائ جان کس بنایا سی 
انڈیا اساں کی کھائ جاسی
 ہر پل بڑا ڈرایا نے
تساں شہ رگ شہہ رگ کھیڈنے رہے
انھاں اٹوٹ انگ اخوایا اے
اساں  کس کی سچا اخاں ہن
اس کری تے جو دکھایا اے
تساں چپ چپیتے کیاں ھوئ گئےھو
 پہائ جی کجھ تہ فرماؤ
جے   پتہ چلی گیا ہن تساں کی
کہ پچھلیاں گلاں خام خیالی سن
تے ہن وی ویلہ اجے بیتیا نہیں
تساں بئوں نہیں تہ ہک کم کرو
کجھ کرم کرو نکے پہائ پر
اسکی انسان ہن سمجھی کہینو
اسنا وی اک اپنا کہار ھوئے
جتھے اپنا نظام چلائ کہینے
فیر اپنے دوئے جسے کی
دنیا کی باور کران استے
اک تحریک چلائ کہینے
جتھے تس وی اسنی تائید کرو
سب ملکاں نے ایواناں وچ
 کشمیر نی رل مل گل کرو
اے کہہ آدھا گھنٹا ہفتے وچ
کشمیر نا سوگ منانے او
ساڑھے خواباں کی دفنانے او
کجھ کم کرو کجھ کرم کرو
یا اینج کرو جے کری سکو
جے نکا ہتھوں نکل گیا
تساں ابا جی توں پچھی کے 
نکے کی ہن عاق کرو۔
آزاد کرو آزاد کرو
آزاد کی فر آزاد کرو

                 توقیر لون

Friday, 6 September 2019



یزید ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک نظام کا نام ھے


محرم الحرام کا مہینہ ہے اور یہ مہینہ ہمیں جناب عالی
مقام حضرت امام حسین کے  واقعہ کربلا جو کہ اصل میں معرکہ حق و باطل تھا کی  یاد دلآتا ہے۔ حق و باطل کی یہ جنگ  ازل سے ابد تک ہمیشہ جاری رہے گی ۔   سرخرو ھونا ھے اگر تو زندگی کے ہر موڑ پر ہمیں امام  حسین  کے نقش پا کی پیروی کرنی چاہئے کیونکہ یہی حق والوں کا شیوہ رہا ھے۔
واقعہ کربلا کا بغور مطالعہ کیا جائے تو در حقیقت امام حسین رضی اللہ عنہ نے کسی ایک فرد کے خلاف جہاد نہیں کیا بلکہ یزیدکے اس نظام کے خلاف جہاد کیا تھا  جو کہ اسلامی نظام کے برخلاف تھا حسین حق پر تھے اور یزید باطل پر تھا ۔ آج اگر اس واقعے کو دیکھا جائے تو ہمیں معلوم ھو گا کہ وہ یزیدی نظام اور سوچ آج بھی ھمارے معاشرے میں اور ہماری ریاست میں موجود ھے، جس کے ھاتھ تھوڑی بہت طاقت آ جائے وہ یزیدیت پر اتر آتا ہے۔
ہمیں تو حسین کے نقش قدم پر چلنا ھے اور چلتے رہیں گے لیکن اسکے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی معلوم کرنا ھو  گا کہ آج کے یزید کون ہیں جب تک ہم یہ معلوم نہیں کر سکتے ہمارے لیے امام حسین کے راستے ، حق کے راستے پر چلنا دشوار ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ھو گا۔ لیکن یہ معلوم کرنا اتنا مشکل بھی نہیں، بات سادہ سی ھے کہ وہ کون سے عناصر ہیں  جو لوگوں کی زبان بندی  کر رہے ھیں، جو لوگوں کو بات بات پر غداری   کے فتوے جاری کر رہے ہیں۔  جو لوگوں کی بات سننے کی بجائے انکا گلا گھونٹ رہےہیں اور جو لوگوں کی آوازوں کو انکے جسم سمیت غائب کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ھو گا کہ یہ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟
آج کے یزیدی نظام  کو معلوم ہے کہ جن آوازوں کو وہ دبا رہا ھے بہت کم ہیں مگر اسکے یزیدی نظام کے لیے ایک آنے والے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ھو سکتی ہیں۔ اس یزیدی نظام کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ ھر ممکن کوشش کررہا کہ ھے کہ  اصل حقائق شعور کو عوام تک ہی نہ پہنچنے دیا جائے تا کہ یہ جو چاہیں کرتے رہیں۔
آئے دن جن آوازوں کو دبایا جا رہا ہے یا لوگوں کو غائب کیا جا رہا ہے  ان کو اگر دیکھا جائے تو ہمیں معلوم ھو گا کہ یہ کوئ بس ڈرائیور، کنڈکٹر، ریڑھی بان، خوانچہ  فروش، یا پھر حلوائی ، حجام یا موچی وغیرہ   نہیں بلکہ معاشرے کے اعلی تعلیم یافتہ اور ایسے باشعور افراد ہیں جو اپنے  لیےنہیں بلکہ اپنے اہل علاقہ اور خطے کے حقوق کی بات کرتے ہیں، جو اس ملک میں غلط اور متعصب نظام کے خلاف بات کرتے ہیں اور حق کی بات کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے افکار و خیالات سے  عوام کو شعور دے سکتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں کی جبری گمشدگیاں اور غائب ھو جانا ایک عام سی بات ھو چکی ھے۔ اس ملک کی تاریخ میں کئ دانشوروں،  شاعروں اور حق گو شخصیات پر غداری کے فتوے لگائے گئے انہیں پاںند سلاسل کیا گیا اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ھے۔ حال  ہی میں سندھ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر انعام بھٹی کا غائب کیا جانا اور اسپر ریاستی اداروں کا چوں تک نہ کرنا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ھے جو کہ یزیدی نظام کا منہ بولتا ثبوت ھے۔ 
یہ ملک تو اسلام کے نام پر لیا گیا تھا مگر بد قسمتی سے یہاں جس نظام کا زور رہا ھے وہ حسینیت کے بر خلاف رہا ھے۔ لوگوں کو انکے  اختلاف رائے پر یا تنقید پر زبان بندی یا غائب کر دینا کہاں کا انصاف ھے۔ ریاست میں  عدالتیں موجود ہیں لیکن پھر بھی کچھ یزیدیت کے پیروکار اپنی مخالف آوازوں سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ انہیں  قانونی گرفت میں لانے کی بجائے غائب کر دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ یزیدی نظام اس بات سے نالاں ہے کہ اس ملک کا یہ اعلی تعلیم یافتہ دانشور طبقہ اس ملک  کے بس ڈرائیور، کنڈکٹر، حجام، موچی، مستری، اور مزدور پر کہیں اس یزیدی نظام کی اصلیت کا پول نہ کھول دے۔ 
 اگر ان لوگوں پر اتنا ہی سنگین الزام ھے تو ان پر عدالتوں میں مقدمات کیوں نہیں کیے جاتے،  انہیں عدالت میں پیش کیا جائے، ان لوگوں کو بھی اپنی صفائی میں کچھ کہنے کا موقع دیا جائے اور اگر ان پر الزام  ثابت ھوتا ھے تو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔۔۔۔ لیکن افسوس کہ یہ یزیدی نظام کے پیروکار صرف اور صرف یزیدی عدالتوں کے قائل ہیں یہاں ملزم کو اپنی صفائ میں بولنے نہیں دیا جاتا ۔۔۔ بس غائب کر دیا جاتا ھے۔

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ھے
اسلام زندہ ھوتا ھے ہر کربلا کے بعد