Saturday, 24 October 2015

کشمیری و پہاڑی میوزیکل ایونٹ



 آر پار کے کشمیریوں کو ثقافتی بنیادوں پر ہی یکجا کیا جا سکتا ہے۔


لیوٹن برطانیہ ، کشمیر وائسز کے زیر اہتمام برطانیہ کے شہر لیوٹن میں پہاڑی و کشمیری میوزیکل ایونٹ کا اہتمام کیا گیا جس میں برطانیہ بھر سے بڑی تعداد میں کشمیری کمیونٹی نے شرکت کی۔ اس پہاڑی و کشمیری میوزیکل ایونٹ کا مقصدبرطانیہ میں عرصہ دراز سے مقیم پاکستانی و ہندوستانی مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والوں اپنی ماں بولی کی اہمیت اجاگر کرنا تھا۔ ریاست جموں و کشمیر میں بولی جانی والی باقی زبانوں کی اہمیت اپنی جگہ موجود ہے لیکن ان دو زبانوں کو ریاست میں بولی جانے والی سب سے بڑی زبانیں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔
گزشتہ سال بھی کشمیر وائسز نے ایک تقریب کا انعقاد کیا تھا جس میں اوور سیز کشمیریوں کی لائف سٹوریز اور ان کی محنت کے بل بوتے پر ان کامیابیوں کے متعلق انٹرویوز کو ریکارڈ کروا کر دیگر کشمیریوں کے ساتھ شیئر کئے تا کہ دیگر کشمیری کمیونٹی بھی ان سے مستفید ہو سکے اور آپس میں ربط قائم ہو ۔ برطانیہ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور انتہائی کامیاب پروگرام تھا جس کوبرطانیہ کی لوکل گورنمنٹ نے بھی سراہا اور ایک بڑی تعداد میں کشمیری سیاسی، سماجی ، علمی و ادبی شخصیات نے حصہ لیا ۔ اس سال بھی اس شاندار میوزیکل ایونٹ کا سہرا کشمیر وائسز پروجیکٹ کے کو آرڈینیٹر توقیرلون کے سر جاتا ہے جو اس پروجیکٹ پر گزشتہ ساڑھے تین سالوں سے کام کر رہے ہیں ۔
پروگرام کے آغازپر کشمیر وائسز پروجیکٹ کے کو آرڈینیٹر توقیرلون نے میزبانی کے فرائض سر انجام دیتے ہوئے پہاڑی و کشمیری میوزیکل ایونٹ کے مقاصد بیان کئے اور پنڈال ریاست کے اس پار سے آئے فنکار وحید جیلانی ، شازیہ بشیر اوربرطانوی نژاد کشمیری سنگر خواجہ زاہد لون کے سپرد کر دیا جنہوں نے پنڈال میں موجود کشمیریوں کو اپنی محسور کن آواز کے جادو سے داد دینے پر مجبور کر دیا فنکاروں نے کشمیری، گوجری ، پہاڑی و دیگر زبانوں میں گیت پیش کئے جن پر حال میں موجود کشمیری تالیاں بجا بجا کر اپنی مسرت کا اظہار کرتے اور جھومتے رہے ۔ اس دوران حال میں موجود کشمیریوں کمیونٹی کے لئے ریفریشمنٹ کا بھی خاصہ انتظام کیا گیا تھا جس میں دیگر لوازمات کے ساتھ کشمیری سبز چائے کا خصوصی اہتمام کیا گیا جس کا لطف حاضرین دوران پرو گرام اٹھاتے رہے۔
پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹرشفیع مہینگر،سریندر کاؤل،  عباس بٹ ، کونسلر چوہدری ایوب ، کونسلرنسیم ایوب ، لیاقت لون ، صادق سبہانی ،آصف مسعود چوہدری ، ایوب راٹھور و دیگر نے مختصراً اپنے خیالات کرتے ہوئے کہا کہ ہم کشمیر وائسز کی ٹیم خصوصا کشمیر وائسز پروجیکٹ کے کو آرڈینیٹر توقیرلون کو اپنی نوعیت کے اس پہلے ایونٹ کی اس شاندار کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں اور آج اس خوبصورت شام کی وساطت سے برطانیہ میں مقیم کشمیریوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اپنی ماں بولی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے اس قسم کے ایونٹس میں بھر پور شرکت کریں تا کہ اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو اپنی مان بولی سے روشناس کروایا جا سکے ہم میں سے اکثر خاندان ایسے ہیں جن کے بزرگ انگریزی نہیں سمجھتے اور تیسری نسل کو سوائے انگلش کیاور کوئی زبان نہیں آتی اس طرح ہماری سے بزرگوں اور تیسری نسل کے درمیان کمیونیکیشن گیپ آ جاتا ہے جس سے ایک بڑا خلا پیدا ہو جاتا ہے لیکن ہم پر امید ہیں کہ اس قسم کے ایونٹ ہوتے رہے تو ہم یہ ہمارے اور آئندہ نسلوں کے لئے مفید ثابت ہونگے۔











http://www.geourdu.com/overseas/evening-hill-kashmiri-musical-name-united-kingdom-musical/

Sunday, 23 August 2015

ہمیں است و ہمیں است ، نئے مظفرآباد سے کوٹلی تک


 ہمیں است و ہمیں است
(نئے مظفر آباد سے کوٹلی تک)
  میرے دوسرے سفر کے اسباب جو اچانک ہی پیدا ہو گئے تھے،  کوٹلی سےایبٹ آباد اور پھر مظفر آباد سے ہوتے ہوئے واپس کوٹلی تک کا تھا۔ میری بھانجی  جو میڈیکل کالج سے گھر چھٹیوں پر آئی ہوئی تھی اب اسکو  واپس کالج چھوڑنا تھا۔میں ، میرا   ماموں زادکزن  ، اپنے بھانجے  اور بھانجی  کے ہمراہ  اسلام آباد  اور ایبٹ باد کی جانب روانہ ہو گئے۔  جوں ہی ہم آزاد کشمیر سے اسلام آباد پہنچے تو پہلی چیز جو ہم نوٹ کرتے ہیں وہ سڑکوں کا نظام ہے۔ ہماری خستہ حال سڑکوں کے مقابلہ میں اسلام آباد کی بہترین سڑکوں پر جب گاڑی چلتی ہے تو  فرق صاف نظر آنے لگتا ہے۔ اسلام آباد سے ایبٹ آباد تک سڑکیں کشادہ  اور  سفر انتہائی آرام دہ تھا۔  راستے میں مجھے اپنے دوست حسنین گیلانی صاحب  کا فون آ گیا کہ  مظفر آباد سے لازمی ہوتا ہوا جاؤں ۔  ویسے بھی مجھے ان سے ملے ہوئے 14 سال ہو چکے تھے۔ موقع کو غنیمت جانا اور چل پڑے مظفرآباد کی طرف۔ میرے ماموں زاد پیسنجر سیٹ بیٹھ کر گاڑی کی چابی میرے حوالے کر دی۔ رات  ہو چکی تھی اور آگے کا سفر بھی پہاڑی تھا۔ جوں جوں ہم مظفر آباد کی طرف بڑھ رہے تھے  تو ں توںاندھیرا  گہرا اور   پہاڑ مزید بلند ہو رہے تھے۔ اتنے بلندی پر ڈرائیونگ کا  شاید میرا یہ پہلا تجربہ تھا ۔ جب ہم مظفر آباد کے قریب پہنچے تو پہاڑ کی چوٹی سے مظفر آباد شہر نہایت خوبصورت اور روشنی میں  ڈو با ہوا لگ رہا تھا۔

مظفر آباد پہنچ کر اپنے دوست گیلانی صاحب سے فون پر ڈائرکشن لی اور ولج ویو ریسٹورنٹ پہنچ گئے جہاں وہ ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ یہ ریسٹورنٹ دریائے جہلم جو کہ وتاستا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے،  کے کنارے واقع ہے ۔ یہاں سیاحوں کے لیے نہایت خوبصورت ہٹس  بنائے گئے تھے ،   رات کو جب ہر طرف خاموشی طاری ہو جاتی  ہے تو پھر دریا کے پانی کا شور  کانوں میں رس گھولنے والی موسیقی  کا سماں باندھ کر ایک پوتر قوالی کا روپ دھار لیتا ہے۔ رات کا کھانا ہم نے دریا کے کنارے لگی ہٹس میں  بیٹھ کرکھایا، اس جگہ بیٹھ کر  کھانا کھانے کا جو لطف اور مزہ مجھے اس رات  کو حاصل ہو ا ، ایسا   شاید ہی مجھے کہیں اور مل سکے۔ 
حسنین گیلانی صاحب کا گھر ولج ویو ریسٹورنٹ سے کچھ زیادہ دور نہیں تھا۔ ہم نے رات وہاں بسر کی اور صبح ناشتے کے بعد اپنے مہربان دوست سے رخصت چاہی تا کہ مظفر آباد شہر کی کچھ سیر کی  جائے۔ مجھے یاد ہے کہ میں آخری بار مظفر آباد تب آیا تھا جب میں آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا۔ ہم اپنے سکول کی طرف سے بطور سکاؤٹس گئے تھے۔ اس دور کے مظفر آباد اور آج کے مظفر آباد میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ 2005 کے زلزلہ کی وجہ سے  جب سارا مظفر آباد  ملیا میٹ ہو گیا اور لا تعداد  انسانی جانیں لقمہ ء  اجل بن گئی  تو  اہلیانِ آزاد کشمیر کے علاوہ دوسرے ممالک کی رزاکارانہ ٹیمیں بھی کشمیر آئیں، جنھوں نے بڑھ چڑھ کر فلاح بہبود کا کام کیا  اور  کئی لوگوں کو ملبے کے ڈھیر سے زندہ نکالا گیا۔ بیرون ملک ہمارے لوگوں نے دل کھول اپنے بھائیوں کی مالی مدد کی تا کہ وہ جلد سے جلد اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔ زلزلہ کے بعد  غیر ملکی امداد کے باعث مظفر آباد شہر کو دوبارہ سے تعمیر کیا گیا، کشادہ سڑکیں ، نئے پل بنائے گئےاور شہر کو نئے سرے سے پھر آباد کیا گیا۔  اب جو مظفر آباد میری آنکھوں کے سامنے تھا وہ پرانے مظفر آباد سے تقریبا" 50 سال آگے نکل چکا تھا۔

مظفر آباد شہر سے نکل کر ہم کوہالہ کی جانب  نکل پڑے تا کہ مری اور اسلام آباد سے ہوتے ہوئے ہم کوٹلی کو سدھاریں۔  کوہالہ میں  دریائے جہلم کنا رے سڑک کی حالت بہت ہی خراب تھی۔ سلائیڈنگ کی وجہ سے سڑک کا آدھا حصہ ٹوٹ کر نیجے گر چکا تھا اور ہمیں سڑک پر بمشکل اتنی ہی جگہ ملی  کہ جہاں سے گاڑی کے ٹائر گزر سکیں۔ کسی نے ایک کھڈے میں کچھ پتھر رکھ دیے تھے تا گاڑی ٹائر اسکے اوپر سے گزر سکے اور گاڑی کھڈے میں نہ پھنس سکے۔ میں نے اور میرے بھانجے نے باہر نکل کر اپنے ماموں زاد کو گاڑی وہاں سے نکالنے میں گائڈ کیا اور اللہ اللہ کر کے وہاں سے جتنی جلدی ہو سکے رفو چکر ہونے کی فکر کرنے لگے۔ کیونکہ سڑک کے اگلے حصے میں بھی دراڑ آ چکی تھی جو کہ کسی خطرناک حادثہ کے انتظار میں تھی نیچے جہلم طغیانی کا باعث اپنے پورے جوبن سے بہہ رہا تھا  اسے دیکھ کر مجھے ایکدم کسی انجانے خوف نے گھیر لیا، میں فورا " وہاں سے نکلنا چاہتا تھا۔

آگے چل کر نہایت  دلفریب مناظر دیکھنے کو ملے،  بلند و بالا پہاڑ ایسے لگ  رہے تھے جیسے آسمان کو چھو رہے ہوں ہم  چھوٹے چھوٹے گاؤں اور بازاروں   میں سے گزرے۔ ایک جگہ بازار میں تازہ کلچے بن رہے تھے۔ میں گاڑی روک کر دکان پر چلا گیا جہاں سے میں نے خستہ کلچے ، مکی کی روٹی اور میٹھی روٹی خرید لایا۔  یہ ایک چھوٹا سا بازار تھا جہاں سے بمشکل دو گاڑیا ں ایک ساتھ گزر سکتی تھیں۔ اسے دیکھ کر مجھے ہجیرہ کا بازار یا دآ گیا۔ سڑک ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی  شاید انتظامیہ اس علاقہ کو اپنے کاغذوں سے فارغ کر چکی تھی۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ آزاد کشمیر کی  95 فیصد سڑکوں کی حالت ایسی ہی  کیوں ہے؟  آخر کیا وجہ ہم لوگ اس 21ویں صدی میں بھی اسقدر ترقی نہ کر سکے کہ اچھی سڑکیں ہی بنا لیں۔ میں نے موبائل فون سے گھر فون کرنے کوشش کی تا کہ اپنی خیریت کی اطلاع دے دوں،  لیکن نیٹ ورک کوریج نہ ہونے کی وجہ سے کال کنیکٹ نہ ہو سکی۔

جیسے ہی ہم مری  کی حدود میں داخل ہوئے تو میرے موبائل کے سگنل بھی  پورے آ گئے اور انٹرنیٹ بھی 4جی کی سروس شو کرنے لگا۔ میں نے گھر فون کر کے والدہ صاحبہ کو خیریت کی اطلاع دی تو انکی تسلی ہو گئی۔ اب ہماری گاڑی فراٹے بھر رہی تھی  اور ہم اسلام آباد کی طرف بڑھ رہے تھے۔ سڑک نہایت کشادہ اور بہت اچھی بنائی گئی تھی اسے دیکھ کر مجھے یورپ کی سڑکوں کا گمان ہونے لگا۔ مری سے اسلام آباد کا سفر بہت ہی عمدہ تھا اور ہم باتوں باتوں میں اسلام پہنچ بھی گئے۔ اسلام آباد   پہنچ کر ہم نے یہی سوچا کہ پہلے پیٹ پوجا پھر کام دوجا۔ ہم ایک ریسٹورنٹ میں گئے جہاں کی بریانی کافی مشہور تھی۔ اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ اندر تو تل رکھنے کو بھی جگہ نہیں تھی۔ خیر کچھ دیر انتظار کے بعد ہمیں جگہ مل ہی گئی اور ہم نے بیٹھ کر آرام سےپیٹ تپسیا کی۔

کھانے سے فراغت کے بعد ہم نے اپنی کا رخ کوٹلی  کی طرف کر لیا اور اسلام آباد کی خوبصورت سڑکوں کو پیچھے چھوڑتے چلے گئے۔  راستے میں میں نے دوبارہ  موبائل سے فون کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود، کہوٹہ سے آگے جب آزاد کشمیر کی طرف بڑھتے جائیں تو  موبائل کے سگنل غائب ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ شاید بلندو بالا پہاڑوں کی چوٹیوں سے انہیں ڈر لگتا ہے۔ یہاں سے کوٹلی تک کا سفر انتہائی تھکا دینے والا ہے۔ خدا خدا کر کے ہم کوٹلی کی حدود میں داخل ہوئے تو جان میں جان آئی۔ راستے میں کوٹلی سے کچھ پہلے بڑالی کا مقام پر کورین فرم کے تعاون سے ڈیم بنانے کا کام زور و شور سے جاری تھا۔ ایک اندازے کے مطابق اس ڈیم سے 100 میگا واٹ  تک بجلی پیداکی جا سکے گی  لیکن  سوال یہ ہے کہ کیا یہ بجلی کوٹلی کے حصے میں بھی آئے گی؟  کچھ دیر یہاں رک کر کام کا جائزہ لیا اور چند تصاویر بھی اتاریں۔

شام ہو چکی تھی اور ہم کوٹلی شہر میں داخل ہو چکے تھے۔ جب گھر پہنچے تو والدہ صاحبہ برآمدے میں بیٹھی ہماری آمد کی راہ دیکھ رہی تھیں۔ ہمیں دیکھ کر بسم اللہ کیا اور متمئن ہو گئیں کہ ہم خیریت سے گھر پہنچ گئے ہیں۔ وہ ناراض ہو رہی تھیں کہ بار بار فون کرنے پر سے رابطہ نہیں ہو رہا تھا  ہم خود ہی فون کر کے اپنی خیریت کی اطلاع ہی  دے دیتے۔لیکن والدہ کو کون سمجھائے کہ ہمارا علاقہ متنازعہ علاقہ ہے۔ یہاں موبائل فون کے سگنل بھی اجازت کے  بغیر نہیں آ سکتے۔

Monday, 3 August 2015

ہمیں است و ہمیں است، اندر کا گند


ہمیں است و ہمیں است
(اندر کا گند)



کوٹلی شہر آبادی کے لحاظ سے کافی تیز 
رفتاری سے بڑھ رہا ہے اور اس  کے ساتھ  ساتھ نئے مسائل کا جنم بھی ہوچکا ہے۔ شہر میں صفائی کا نظام تو موجود ہے مگر بڑے پیمانے  پر غیر مؤثر  ہو چکا ہے میں نے اپنے ماموں زاد کو ساتھ لیا اور شہر کی کھنڈر نما سڑکوں  اور ڈسٹرکٹ ہسپتال جو کہ  شاید اپنے غلیظ ترین دور سے  گزر رہاتھا کی کچھ تصویریں اور وڈیوز بنائیں تا کہ فیس بک پر آگاہی مہم کا آغاز کیا جا سکے ۔ یہ تمام وڈیوز بنانے کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ لوگوں میں یہ احساس  پیدا ہو سکے کہ وہ کس قدر غلیظ ماحول میں خوشی سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ 
  یومِ مئی کے  موقع پر جہاں لوگ عالمی مزدوروں کا دن مناتے ہیں اور بڑی لمبی لمبی تقاریر کرتے ہیں میں نے اس دن ان لوگوں کو کام کرتے دیکھا جو کہ ہمارے معاشرے میں شاید انسان ہی نہیں تصور کیے جاتے۔ یہ تھے ہمارے بلدیہ کے ملازمین جنہیں عرفِ عام میں ہم چہوڑے کہا کرتے ہیں۔ جی ہاں وہی چہوڑے جو روز ہمارے  گلی کوچوں میں صفائی کا شرف حاصل کر رہے ہیں۔   میں نے ان سے شہر کی حالت کے متعلق کچھ جاننے کی کوشش کی کیونکہ میرے نزدیک ان سے موزوں اور کوئی شخص نہیں ہو سکتا  جو اس بات کا جواب دے سکے کہ روز مرہ کی صفائی کے باوجود شہر میں کوڑاکرکٹ  کیوں بڑھ رہا ہے۔
چہوڑا جی کا کہنا تھا کہ ہم صفائی تو روز کرتے ہیں اور لوگوں کہتے بھی ہیں کہ اپنے گھر  کا کوڑا اپنے گھر کے دروازے کے پاس رکھ دو تو ہم بآسانی اسے اٹھا کر لے جا سکتے ہیں لیکن لوگ سنتے ہی نہیں ہیں، اپنے گھر کا کوڑا دوسروں کے گھر کے سامنے پھینک دیتے ہیں اور جس کا جی چاہے جہاں مرضی کوڑا پھینک دیتا ہے۔ کوڑا کرکٹ کے لیے سرکار نے بڑے بڑے کوڑے کے ڈرم رکھے ہوئے ہیں لیکن یہ لوگ پھر بھی سڑک پر ہی پھینک دیتے ہیں۔   ان ورکرز کا  سرکا ر سے یہ گلہ  تھا کہ سرکار انہیں حفاظتی سامان ، سیفٹی  شوز اور دستانے وغیرہ بھی مہیا کرے تا کہ کام کے دوران ممکنہ حادثہ سے  بچا جا سکے۔ میں ان کی ان باتوں سے متائثر   ہوے بغیر نہ رہ سکا کیونکہ ان لوگو ں کو  جنہیں ہمارے لوگ  چہوڑے سمجھتے ہیں ان کی نظر میں ہماری  کیا  اوقات ہے ۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ  اصل میں چہوڑے تو ہم لوگ ہیں جو غلاظت کے ڈھیر جگہ جگہ لگا رہے ہیں، یہ لوگ تو اسے صاف کرتے پھرتے ہیں۔شفیع کوچ بھی یہی کہا کرتاتھا کہ اپنے گھر کا کوڑا دوسروں کے گھر کے باہر  پھینکنے سے اپنے اندر کا گند صاف نہیں ہو تا  جی بلکہ اورکھل کھلا کر سامنے آتا ہے۔

Saturday, 1 August 2015

ہمیں است ہمیں است، تتہ پانی کی جکوزی

ہمیں است و ہمیں است
(تتہ پانی کی جکوزی)



تتہ پانی ایک ایسا مقام ہے جواپنے ابلتے ہوئے پانی کےچشموں
   
کی وجہ سے آزاد کشمیر بھر میں مشہور ہے۔ اس پانی میں گندھک کی آ  میزش   پائی جاتی ہے جو کہ کہا جاتا ہے کے  جوڑوں کے درداور دیگر بیماریوں کے لیے کافی مفید ہے۔ ہم جب نیچے گرم چشموں پر پہنچے تو میں نے اکا دکا آدمی جو کہ   
امنڈتے ہوئے گرم پانی پر دریائی  پتھروں سے بیڈ  بنا کر  اسکے اوپر چٹائی ڈال کر لیٹے ہوئے تھے  اور کمبل اپنے اوپر  ڈال کر شاید بھاپ  سے علاج کی مشق کر   رہے تھے۔ ہم بھی گرم پانی میں اپنے پاؤ ں ڈال کر بیٹھ گئے۔ ایسے محسوس ہو  رہا تھا جیسے کو ئی پاؤں پر  ہلکا ہلکا مساج کر رہا ہو اور دن بھر کے سفر کی تھکن بعد  ہم انتہائی ریلیکسڈ محسوس کر رہے تھے۔ یورپ میں  لوگ جکوزی  اور مساج کے لیے باقاعدہ پیسے خرچ کرتے ہیں اور ہمارے ملک میں  تو یہ خدا کی طرف سے  ایک  انمول عطیہ ہے۔   نجانے کیوں ہماری حکومت  اس قسم کے مقامات پر توجہ نہیں دیتی  وگرنہ ایسے دیدہ زیب  ،  قدرتی حسن اور   معدنیات سے مالا مال مقامات تو  ملکی اور قومی آمدنی کا نہایت مؤثر  ذریعہ بن سکتے ہیں ۔  یورپ میں تو  کئی ممالک  ایسے ہیں کہ جن کی ملکی آمدنی  اچھا خاصہ حصہ سیاحت پر منحصر ہےاور جس کی وجہ سے  لوگوں کا معیارِ زندگی بھی بہت بہتر  ہے۔ 

شام ہو رہی تھی اور ہمیں اب گھر کے لیے روانہ ہونا تھا، ہم نے جلدی جلدی پانی کی بڑی بڑی بوتلیں جو ہم گھر سےساتھ
ہی  لے کر گئے تھے نکالیں اور گرم ابلتا ہوا پانی ان میں بھرنے لگے تا کہ گھر کے باقی لوگ بھی  اس پانی میں پاؤں رکھ کر فرحت اور تازگی محسوس کر سکیں۔  ان کے لیے اس سے بہترین تحفہ اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔  راستے میں ساردہ کے مقام پر کچھ دیر کے لیے رکے جو کہ کوٹلی شہر کا بڑا مشہور ویو پوائینٹ ہے۔ رات کے اندھیرے میں کوٹلی شہر جیسے روشنیوں میں نہا گیا ہو، ایسے لگ رہا تھا کہ جیسے تارے زمین پر اتر آئے ہوں۔ یہ دیدہ ذیب منظر دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا اور میں اپنے کیمرہ اٹھا کر فوٹو کھینچنے لگا۔ابھی میں کیمرہ سیٹ کر کے فوٹو کھینچنے ہی لگا تھا کہ یک دم کوٹلی کا شہر میرے کیمرے کے لینز سے غائب ہو گیا، میں آنکھیں جھپکانے لگا کہ شا ید میری بصارت نہ چلی گئی ہو۔  لیکن ایسا  ہر گِز نہیں تھا،  مجھے میرے ماموں زاد نے مطلع کیا کہ جناب بجلی چلی گئی ہے اور اب شاید گھنٹے ، دو گھنٹے بعد  تشریف لائے لہٰذا  یہاں کھڑے رہنے کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ میں کچھ مایوس سا ہو کر واپس گاڑی میں بیٹھ گیا اور ہم گھر کی طرف چل پڑے۔  ہمارے ہاں بجلی کی آنکھ مچولی ہوتی رہتی ہے  اور گرمیوں میں تو  ایک گھنٹہ بجلی آتی ہے اور 3 گھنٹے  غائب رہتی ہے۔ اللہ بخشے شفیع کوچ کو ، کہا کرتا تھاکہ   بجلی جی گرمی  میں کام زیادہ کرنے کی وجہ سے کافی تھک جاتی ہیں اور  انہیں  بھی تو  آخر کار  آرام کی ضرورت  ہوتی ہے۔ بجلی جی اوروں  کو میرا مشورہ ہے کہ وہ بھی تتہ پانی کے گرم گرم پانی میں پاؤں رکھ کر کچھ دیر آرام کر لیا کریں   تا کہ فریش ہو کر دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر جلد آ جایا کریں۔قسم سے وہ جب نہیں ہوتیں تو لوگ انکو کافی مِس کرتے ہیں۔

Thursday, 30 July 2015

بنجوسہ جھیل


  ہمیں است و ہمیں است
 ( بنجوسہ جھیل)


بنجوسہ پہنچ کر بچوں نے خوب سیر و تفریح کی، یہ تفریحی مقام سطح سمندرسے تقریباساڑھے پانچ ہزار فٹ بلند ہے اور گرمیوں میں نہایت خوشگوار موسم کا حامل ہے۔  یہاں  حکومت کی طرف سے سیاحوں کے لیے  ایک ریسٹ ہاؤس  بنایا گیا ہے، جو دور سے بہت خوبصورت نظر آتا ہے۔ یہاں پر ایک جھیل بھی  موجود ہے جس میں کشتی رانی سے لطف اندوز   ہوا جا سکتا ہے۔  ہمارے لوگ جہاں بھی جاتے ہیں کھانے کی فکر پہلے ہی آڑے آ جاتی ہے، ہم بھی اپنے ساتھ بریانی اور دیگر اشیاءِ خوردو نوش ساتھ لے کر گئے تھے۔ لہٰذہ  سب سے پہلے دسترخوان کے لیے موزوں جگہ ڈھونڈی اور سیر ہو کر کھانے تناول فرمایا۔ کھانا کھانے کے بعد جی کر رہا تھا کہ اب بس  دسترخوان پر  لیٹے لیٹے ہی قدرت کے حسین مناظر سے لطف اندوز ہوا جائے۔۔لیکن بچوں کی ضد تھی کہ مزید آگے جایا جائے اور قدرتی حسن کو ایکسپلور کیا جائے۔  قدرت کے حسین مناظر سے فارغ ہو کر  ہم کشتی میں سوار ہو گئے ۔ جھیل میں تیرتی ہوئی کشتی سے قدرتی مناظر اور بھی دلکش اور پر کشش دکھائی دینے لگے جنھیں میں نے اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا۔کشتی کا سفر اسقدر  پر سکون  اور دلآویز تھا کہ  میں اب بھی آنکھیں بند کروں تو لگتا ہے کے پھر بنجوسہ پہنچ گیا ہوں اور دلکش وادی کا نظارا کر رہا ہوں۔ میں آج بھی یہی سوچتا ہوں کہ اگر حکومت اس سیاحتی مقام کی طرف مزید توجہ دے  یا کم سے کم سڑکوں کا نظام ہی بہتر کر دیا جائے تو  ایسے اور  اس جیسے کئی دوسرے تفریحی مقامات  سیاحتی مرکز بن سکتے ہیں اور مقامی لوگوں کا ذریعہ روزگار بہتر ہو سکتا ہے۔ لیکن شاید آزاد کشمیر ایک  متنازعہ علاقہ  ہے لہٰذا   اسکو پس ماندہ ہی رہنا چاہیئے اور عصرِ حاضر کی موجودہ دوڑ میں بھلا اس علاقےکے لوگوں  کا کیا کام۔

بنجوسہ  سے نکلے تو یہ طے پایا کہ ہجیرہ کے راستے  تتہ پانی سے ہوتے ہوئے واپس کوٹلی جایا جائے   اور  ہماری گاڑی کا رخ   ہجیرہ کی طرف  ہو گیا۔ ہجیرہ  ایک نہایت ہی خوبصورت  شہر ہے ۔ جب ہم وادیوں سے ہوتے ہوئے شہر میں  داخل ہوئے تو سڑک تنگ ہونی کی وجہ سے دو گاڑیوں کا بآسانی گزرنا محال تھا۔ ہجیرہ کی  دیسی موٹھی کی  دال کافی مشہور ہے  میں نے بازار میں دکانوں پر کافی نظر دوڑائی کی جلدی جلدی سے دال کہیں  نظر آجائے لیکن ایسا نہ ہو سکا ، ایک جگہ کشمیری کلچے جو کہ تازہ تازہ  تنور سے نکل رہے تھے  دیکھ کر میرے منہ میں پانی آگیا اور میں گاڑی میں بیٹھے بیٹھے ہی  ک دکاندار سے کلچے  لینے میں مصروف ہو گیا۔ اتنے میں ہارن کی  آوازیں آنے لگیں، میں نے پیچھے دیکھا تو گاڑیوں کی  کافی لمبی لائن لگ چکی تھی اور  لوگوں کا پیمانہءِ صبر لبریز ہو چلا تھا۔ میں نے کلچہ والے بھائی کو جلدی میں  پیسے دیے اور شکریہ  ادا کر کے ہم آگے  طرف روانہ ہو گئے۔  ہماری گاڑی پھرسے خوبصورت  وادیوں اور   بل کھاتی  ہوئی سڑکوں پر سے ہوتی ہوئی تتہ پانی کے مقام پر پہنچ  چکی تھی۔

جاری 

Wednesday, 29 July 2015

ہمیں است و ہمیں است ، ہوم سویٹ ہوم


ہمیں است و ہمیں است 
(ہوم سوِیٹ ہوم)

صبح جب میری آنکھ کھلی توباہر برآمدہ میں  مارچ کی اجلی اجلی
دھوپ کو دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔ناشتہ کرنے کے بعد   میری بڑی بیٹی عائذہ   اپنی چھوٹی بہن صوفیہ  کے ساتھ صحن پڑی چارپائی پر لیٹ  کر  دھوپ سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ میں بھی سن باتھ  کے مزے لوٹنے کے لیے صحن میں کرسی پر بیٹھ گیا اور خوش رس مالٹوں سے  لطف اندوز  ہونے لگا ۔ آج جمعہ کا دن تھا اور میں تیار شیار ہو کر جمعہ کے لیے مسجد  روانہ ہو گیا۔ مسجد میں مولوی صاحب خطاب میں فرما رہے تھے کہ جمعہ کے خطبہ سے پہلے ہی سب کام چھوڑ کر مسجد میں آجا نا چاہیے کیونکہ اسکے بعد فرشتے  بھی رجسٹر بند کر کے خطبہ سننے کے لیے بیٹھ جاتے ہیں، میں نے بھی تائید میں سر ہلایا  اور سوچا کہ ،  جمعہ پڑہنے کا کیا فائدہ جب رجسٹر میں  اسکا اندراج ہی نہ ہو سکے۔  پھر مولوی صاحب فرمانے لگے کہ آجکل موبائل فون کی وجہ سے جھوٹ زیادہ عام اور زور و شور سے بولا جانے لگا ہے۔ کہنے لگے کہ انکے ایک  عزیز ہیں ،    کسی  نے  ان کو  کال کی اور پوچھا کہ کیا مصروفیت ہے، تو اس عزیز نے جواب دیا کہ وہ شہر سے باہر کسی کام سے گئے ہوئے ہیں  حالانکہ وہ اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ایک لمحے کے لیے سوچا کی ہاں ٹھیک ہی تو کہہ رہے ہیں مولوی صاحب،  موبائل نہ ہوتا تو پھر  جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت پیش آتی ویسے بھی یہ گوروں کی ایجاد ہے جو خود بھی جھوٹ بولتے ہیں اور مسلمانوں کو  بھی جھوٹ بولنے پر لگا دیا ہے۔



کوٹلی میں دو ، تین دن قیام کے بعد  ہم آزاد کشمیر کے سیاحتی
 مقامات کی سیر پر روانہ ہوئے، میری فیملی کے علاوہ، ہمشیرہ کی فیملی اورمیرا ماموں  زاد ، صبیح بھی ساتھ تھے۔ہماری گاڑی   بنجوسہ کے دلفریب مقام کی جانب  بڑھ رہی تھی، بنجوسہ جو کہ کوٹلی سےراولاکوٹ   کی جانب تقریبا 2 گھنٹے کی مسافت پر ہے بشرطیکہ سڑک ٹھیک ہو۔ کوٹلی شہر سے باہر نکلتے ہی ہمیں وہی 5000 ہزار سالہ  پرانے  کھنڈرات نہ صرف سڑک پر نظر آئے بلکہ ہمیں ان میں  ہچکولے کھانے کا  شرف بھی حاصل ہوا۔ یہ ہماری  آزاد کشمیر گورنمنٹ ہی کی ایک قابلِ صدتحسین کاوش ہے  کہ انھوں نے ایسی قسم کے تاریخی ورثے   کوتا قیامت  محفوظ  رکھنے کےٹھیکہ اٹھا رکھا ہے۔ وگرنہ کس نا معقول کو قومی اثاثہ  محفوظ کرنے کا خیال سوجھ  سکتا تھا۔  راستے میں بہت خوبصورت مناظر آئے  جنہیں دیکھ کر بے اختیار منہ سے  سبحان اللہ نکل جاتا ہے، ہم اسی طرح کے ایک مقام جو کہ انڈیا موڑ کے نام سے مشہور ہے پر کچھ دیر کے لیے رک گئے۔ گاڑی سے با ہر نکلنے پر ایسا محسوس ہوا جیسے کسی اونٹ پر سفر کر تے رہے ہوں، میری پسلیاں  سجے کھبے  ہو ہو کر اب دکھ رہی تھیں۔ خیر گاڑی سے باہر نکل کر جب انڈیا موڑ کا نظارا کیا تو سب تکان دور ہو گئی ،  یہاں سے  دور برف سے لدے  ہوئے  پیر پنجال کے پہاڑ انتہائی دلفریب منظر پیش کر رہے تھے۔جس جگہ ہم کھڑے تھے یہ جگہ بھی خاصی اونچی تھی، اور نیچے لوگوں کے گھر جن پر کہ ٹین کی چھت  پڑی ہوئی بہت بھلا منظر  پیش کر  رہے تھے۔
   یہ تمام کا تمام علاقہ پہاڑی ہے اور یہاں  کے لوگ ان پہاڑیوں پر ہی آباد  ہیں اور اپنا مسکن بنائے ہوئے ہیں۔  یہاں پر زیادہ سدھن قبائل کے لوگ  آباد ہیں جو سادہ مزاج اور بڑے مہمان نواز ہیں۔   اس مقام سے چونکہ  پونچھ کا شہر  نظر  آتا ہے جو کہ انڈین مقبوضہ کشمیر میں ہے   اس لیے اس مناسبت سے اسے انڈیا موڑ دیا گیا ہے۔ میں نے والد صاحب کو موبائل سے  فون کرنے کی کوشش کی تا کہ اپنی خیر خیریت کی اطلاع دے سکوں ، لیکن بے سود۔   ان علاقوں میں موبائل سروس شاید سرے سے  تھی ہی نہیں ، مجھے لمحہ بھر کے لیے مولوی صاحب کے ان الفاظ   کی بازگشت سنائی دی  جو انھوں نے مسجد  میں جمعہ کے دن دوران وعظ کہے تھے ،کہ  موبائل کی آمد سے  اب لوگ جھوٹ زیادہ بولنا شروع ہو گئے ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ  حکومت انسدادِ دروغ   گوئی کے لیےموبائل جیسی خرافات کو یہاں ان  سیدھےسادھے لوگوں میں متعارف کرانے کو عیب سمجھتی تھی۔

جاری