Tuesday, 16 June 2020


India China fight on Ladakh Galwan Border



Click on the link to watch full video

https://www.youtube.com/playlist?list=PLRKdDzWjwsMTgs2VtLHCGfG9nTsLxPpsj

Tuesday, 9 June 2020

Uzma Khan viral video and Doctor Main's funny comments





To watch full video click on the link below

https://youtu.be/jakMdpygENY

Cynthia D Ritchie Accuses Rehman Mali. Doctor Main gives his funny Remarks



Click on the link to watch the Video
https://youtu.be/uoK1Wk9I7F4

Sunday, 3 May 2020

ہجرت



ہجرت

آؤ کہ ہم ہی کوچ کر جائیں
یہ بستی، یہ نگری یہ کوچہ و بازار
بھرے پڑے ہیں زندہ لاشوں سے
دیکھتے سنتے تو ہیں پر  بولتے نہیں
عقل رکھتے تو ہیں پر سوچتے نہیں
انکی سوچوں پہ پہرے ایسی مخلوق کے
جو دکھتی تو ہے پر دکھائ دیتی نہیں
یہ بستی یہ نگری یہ کوچہ و بازار
ہیں مالک اسکے جو سمجھتے ہیں یہ
کہ زر اور زور پر انہیں کا ھے حق
وہ چاہیں تو کچھ بھی کر گزریں یہاں
مسجدوں کے مکین منبروں کے امین
 خدا کی وراثت کے جو دعویٰ دار ہیں
زر اور زور کے جو آلہء کار ہیں
کوئ انسے کہے ، ہم بھی ہیں یہاں
جن پہ زر، زور اور مذھب کا رعب جماتے ہو تم
 نہ ھوں گے ہم تو تمہاری یہ شاہ زوریاں
پتھروں ، بنجروں، اور پہاڑوں سے جب
ٹکرا کہ واپس آئیں گی
صرف  تمھیں پائیں گی
 شاید  پھر تمھیں اسبات کا احساس ھو
 جا چکے ہیں جو  واپس وہ آتے نہیں
دل ناتواں کو اب یہ سہلاتے نہیں
اک بازگشت تمھارے کانوں میں جو
آ آ کہ تم کو یہ بتلائے گی
  کہ آ ؤ
ہم بھی کوچ کر جائیں 
آؤ کہ ہم بھی
 کوچ کر جائیں۔
        توقیر لون                                                                   


Friday, 20 March 2020

ھرڈ ایمیونٹی، کرونا کا علاج




"کرونا کا علاج "ھرڈ امیونٹی



ماہرین کےمطابق اگر ایک مرتبہ لوگوں کی اکثریت کرونا 
وائرس کا شکار ھو  جائے تو یہ وائرس خود بخود ختم ھو سکتا ھے۔
کرونا وائرس پر قابو پانے کے بنیادی طور پر تین طریقے ہیں ایک یہ کہ لوگوں کے میل ملاپ اور اجتماعات پر سخت پابندی عائد کر دی جائے اور تمام لوگوں کا کرونا وائرس ٹیسٹ یقینی بنایا جائے جس سے اسکی منتقلی کو روکا جا سکتا ھے۔ لیکن یہ اب مشکل اسلیے ھو چکا ھے کہ یہ دنیا کے 100 سے زاید ممالک میں پھیل چکا ھے ۔
دوسرا طریقہ ایسی ویکسین کی ایجاد ھے جو مکمل طور پر کارگر ثابت ھو۔ گو کہ تجربات تیزی سے جاری ہیں لیکن فی الوقت یہ تاخیر کا شکار ھے۔ 
اس وائرس پر قابو پانے  کا  تیسرا طریقہ یہ ھے کہ ہم اسوقت تک انتظار کریں کہ جب تک یہ لوگوں کی اکثریت کو اپنا شکار نہیں بنا لیتا اور لوگ خود بخود اسکے خلاف قوت مدافعت پیدا نہیں کر لیتے۔  لیکن اس  طریقہ کا نقصان یہ ہے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ  جانوں کے ضیاع کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔جو کہ شاید کوئ موزوں حل نہیں ھو گا۔ تیسرے طریقے کے مطابق اگر  اس وائرس کو لوگوں میں پھیلنے  دیا جائے تو جو لوگ اس سے متائثر ھونگے اگر وہ زندہ بچ جاتے ہیں تو وہ اس وائرس کے خلاف خود بخود قوت مدافعت پیدا کر لیں گے اور اس طرح یہ وائرس فطری طریقے سے ختم  ھو جائے گا یا لوگوں کی صحت پر زیادہ اثر انداز نہیں ھو سکے گا۔ کیونکہ اسکے  پھیل جانے اور اسکے نتیجے میں  لوگوں کی اکثریت کا اسکے خلاف قوت مدافعت پیدا کر لینے کی وجہ سے یہ اپنا نیا شکار ڈھونڈنے ناکام ھوجائے گا۔
ماہرین کے مطابق اس وائرس کا  بے قابو ھو کر دنیا میں پھیل جانا ایک بھیانک منظر نامہ پیش۔کر سکتا ھے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کی تقریباً 60 فیصد آبادی ایک سال کے اندر اندر اس سے متائثر ھو سکتی ھے۔ یہ اعدادوشمار وبائ امراض کے ماہرین کی طرف سے دیے گئے ہیں جنکے مطابق  اعداد وشمارکے اس نقطہ  پر پہنچ کر لوگوں کی اکثریت کی یا اجتماعی قوت مدافعت  یعنی ھرڈ ایمیونٹی کے نظریہ کو اپنا کام شروع کر دینا چاہئے۔
برطانیہ کے سائنس ایڈوائزر پیٹرک ویلنس نے بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا ھے کہ برطانیہ میں ھرڈ ایمیونٹی یعنی لوگوں کی اکثریت میں فطری طور پر اس وائرس کے خلاف قوت مدافعت کو پنپنے دیا جائے تو ہی اس وائرس کی پھیلاؤ کو ختم کیا جا سکتا ھے۔ 
ھالینڈ کے پرائم منسٹر نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ھوئے کہا ہے  کہ کرونا وائرس کی پھیلاؤ کو کم سے کم کر کے ایک کنٹرول طریقے سے وائرس کے خلاف گروپ ایمیونٹی کو قابل عمل بنایا جائے تا کہ اس وائرس کو مستقبل میں بے ضرر بنایا جا سکے۔
موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ھرڈ ایمیونٹی شاید ایک بہتر اقدام ثابت  نہ ہو کیونکہ اسکی وجہ سے لوگوں کی اکثریت کے بیمار ھونے کا خطرہ ھے اور برطانیہ کے  نیشنل ہیلتھ سروسز پر ایک دم ناقابل برداشت بوجھ پڑ سکتا ھے۔ ان حالات کے پیش نظر برطانوی حکومت نے وائرس پر قابو پانے اور پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تاخیری حربے کو اپناتے ہوئے تا حکم ثانی سکول بند کرنے، عوام کو گھر سے کام کرنے کی تاکید کی ھے اور بغیر وجہ کے باھرنکلنے اور اجتماعات  کی حوصلہ شکنی کا فیصلہ کیا ہے۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے تاخیری حربہ سے فایدہ یہ ھو گا کہ نیشنل ہیلتھ سروسز پر شاید اتنا بوجھ نہ پڑے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو  بچانا ممکن ھو سکے۔ لیکن عین ممکن ہے کہ کورونا وائرس کی وباکے پھیلاؤ پر قابو پا لینے   کے بعد بھی شاید اس وائرس کے خاتمہ کے لیے  ہمیں  ھرڈ ایمیونٹی  کا سہارا لینا پڑے۔ 
 بہت سے لوگ شاید ھرڈ ایمینوٹی کے نام سے واقف نہ ھوں۔ ھرڈ ایمیونٹی ایسا عمل ہے کہ جس میں لوگوں کی اکثریت کسی جراثیم کے خلاف فطری طور پر قوت مدافعت پیدا کر لیتی ھے اور وہ اس جراثیم کے خطرے سے محفوظ ھونے کے ساتھ ساتھ اسکے عدم پھیلاؤ کا باعث بنتے ھوئے اسکا تدارک میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔  جیسے اگر کسی کو  ایک بار بچپن میں  چکن پاکس  ھو جائے تو وہ اپنی بقیہ زندگی میں اس سے محفوظ ھو جانے کے ساتھ ساتھ  اسکے پھیلاو کا باعث نہیں بنتا۔ یعنی وہ اس جراثیم کے خلاف قوت مدافعت پیدا کر لیتا ھے۔ 








Wednesday, 4 March 2020

ھذا من فضل ربی





 ھذا من فضل ربی



نماز میں دوسرا سلام پھیرتے ہی اپنے بائیں جانب کاشی کی نظر  ایک شخص پر پڑی تو  اسے ایسا محسوس ھوا جیسے شاید وہ اسے جانتا ھو۔ دعا سے فراغت کے بعد کاشی  کی اس شخص سے علیک سلیک ھونے پر معلوم ھوا کہ رشید اور کاشی دونوں  سکول میں ایک ہی کلاس میں پڑھا کرتے تھے۔ رشید کا خاندان اپنے کام کی وجہ سے لاھور منتقل ھو چکا تھا اور کافی عرصہ کے بعد اپنے ایک نجی کام کی غرض سےاپنے آبائی شہر میں اسکا آنا ھوا تھا۔ رشید کو اپنے آبائ شہر میں واضح تبدیلی نظر آرہی تھی۔ یہ چھوٹا سا شہر پھیل کر اب کافی بڑا اور گنجان آباد ھو چکا تھا، ہر طرف نئ دکانیں اور شاپنگ پلازے کھل چکے تھے  اور لوگوں کے طرز زندگی میں بھی نمایاں تبدیلی آ چکی تھی۔  کاشی کے پوچھنے پر رشید نے اسے بتایا کہ اسکے والد کے نام 10 مرلے زمین کا ایک پلاٹ تھا جسے وہ بیچ کر اپنی بہن کی شادی کر کے اپنی زمہ داری سے سبکدوش ھونا چاھتا ھے۔ لیکن یہاں پہنچ کر اسے معلوم ھوا کہ اس زمین کے کچھ حصے پر کسی نے غیر قانونی قبضہ کر رکھا ھے اور قبضہ گروپ کا تقاضا ھے کہ پانچ لاکھ رقم کے عوض وہ قبضہ چھوڑنے کو تیار ہیں۔  
یہ سن کر کاشی کی آنکھوں میں چمک سی آ گئ اور دل ہی دل میں سوچنے  لگا  کہ رزق میں اضافے کے تعویذ  کی برکت نے تو کمال ہی کر دیا ، آج تو رزق خود چل کر اسکے پاس آیا ھے۔ کاشی ایک بینک میں کام کرتا تھا تنخواہ بھی کافی معقول تھی جس سے اسکےگھر کا نظام نہایت احسن طریقے سے چل رہا تھا۔ لیکن اسکے ساتھ ساتھ وہ رضاکارانہ طور پر لوگوں کے ان مسائل کہ جن سے اسکے رزق میں مزید اضافہ کی توقع ممکن ھوتی تھی، کی گتھیاں سلجھانے میں بھی انکی کافی معاونت کرتا تھا۔ کاشی نے رشید کو ایک مفید مشورہ دیتے ھوئے کہا  "  قبضہ کو چھڑانے کے لیے بار بار عدالت کے چکر لگانے اور پیسہ ضائع کرنے کی بجائے قبضہ گروپ سے رقم طے کر کے ان سے اپنی جان چھڑوا لو تو زیادہ بہتر ھو گا وگرنہ تمہارا کون  بار بار لاھور سے یہاں آ کر تاریخیں بھگتے گا"۔ رشید نے کچھ دیر سوچنے کے بعد اسے کہا " میں اس زمین کا اصل مالک ھوں اور انکا یہ قبضہ ناجائز ھےجسکے وہ پانچ لاکھ مانگ رہے ہیں "۔ لیکن کاشی نے اسے سمجھایا کہ بھائ جان آج کل یہاں ایسا ہی چل رہا ھے، لوگوں کی زمینوں پر قبضہ کر کے انہیں مقدمے میں الجھا کر اصل مالک سے جتنی ممکن ھو سکے  رقم بٹور لی جاتی ھے۔
 کاشی نے رشید کو اپنے گھر چائے پر مدعو کیا، رشید کوئ بہانا بنا کر اسے ٹالنا چاہتا تھا مگر  کاشی کے اصرار پر  رشید اسکے ساتھ اسکے گھر چل پڑا ۔  گھر میں داخل ھونے سے پہلے رشید کی نظر گیٹ پر لگی ھوئ سنہرے رنگ کی ایک تختی پر پڑی جس پر سیاہ رنگ میں  ''ھذا من فضل ربی''  لکھا ھوا تھا۔  رشید کاشی کا دو منزلہ گھر جس پر سفید سنگ مر مر لگا ھوا تھا اور ڈرائنگ روم جہاں ہر چیز قرینے سے رکھی گئ تھی کو  دیکھ کر کافی متائثر ھوا۔  دونوں خوش گپیوں میں مصروف ھو گئے اور اپنے زمانہ طالب علمی کو یاد کرنے لگے ۔ چائے پینے کے بعد رشید نے  کاشی سے رخصت چاہی، الوداع کرتے ھوئے کاشی نے اس سے کہا " تم اچھی طرح سوچ لو اور  میں قبضہ گروپ کی ٹوہ لیتا ھوں کہ وہ کیا چاہتے ہیں"۔ 
دوسرے دن مسجد کے باھر کاشی کی ملاقات دوبارہ رشید سے ھوئ جس پر کاشی رشید کو خوشخبری سنائ  کہ آج ہی اسکی بات قبضہ گروپ سے ھوئ ھے اور وہ 4لاکھ کی رقم لینے پر شاید راضی ھو جائیں۔ ساتھ ہی رشید کو یہ بھی بتایا کہ زمینی تنازعات کے مقدمات پر 4 لاکھ سے زیادہ کی رقم خرچ ھو سکتی ہے اور وقت علیحدہ سے برباد ھو گا۔  رشید کچھ سوچ میں پڑ جاتا ھے اور پھر رقم دینے کی حامی بھر لیتا ھے۔ 
اگلے دن کاشی،  رشید اور قبضہ گروپ کے سرغنہ قیوم  کو اپنے گھر چائے پر مدعو کیا جہاں کچھ دیر کی ٹال مٹول کے بعد  معاملات طے پا جانے پر کاشی اپنے ہم جماعت دوست کو اسکی زمین کا قبضہ دلانے میں کامیاب ھو گیا۔ دوسرے دن شام کو کاشی نے اپنےگھر آ کر اپنے کمرے کی  الماری کھولی  جہاں ایک کونے میں چسپاں رزق میں فراوانی کے تعویذ کے پاس پہلے سے ہی کچھ رقم پڑی تھی ، کاشی نے اپنی جیب میں موجود رقم نکال کر گنی اور پورے پچاس ھزار روپے پہلے سے  موجود پیسوں کے ساتھ رکھتے ہوئے اپنی بیوی سے  خوشی خوشی کہا، " ماشاءاللہ رزق میں اضافہ کرنے والا وظیفہ اور تعویذ انتہائ کار گر ثابت ھو رہے ہیں"۔ جس پر اسکی بیوی کافی خوش ھوئ اور اسے بتایا  کہ آج بھائ قیوم کا بیٹا کھجوریں  اور زم زم کا پانی دے گیا تھا کہہ رہا تھا کہ یہ ابو نے بھجوائ ہیں وہ ایک ہفتہ پہلے حج سے واپس لوٹے ہیں۔ 

Tuesday, 29 October 2019



پاکستان سے پالستان تک کا سفر۔


مطالعہ پاکستان ایک ایسا مضمون یا مشین کہہ لیجئے ہے جسکا بر صغیر کی  ھزاروں سالہ تاریخ کو کوزے میں انتہائ مہارت سے بند کر نے میں کوئ ثانی نہیں۔  یہ ہماری پاکستانی قوم  کی آج تک کی  ایک ایسی ایجاد ہے جو  ٹائم مشین کا کام کرتے ہوئے پورے ھندوستان کی تاریخ کو فاسٹ فارورڈ کر کے انتہائ خوبصورتی سے  تقسیم ہند تک لے آتی ھے اور پھر اسکے بعد ایکدم پاکستان کی تاریخ شروع ھو جاتی ہے جسے جب  اور جیسے چاہا کی بنیاد پر ضرورت کے مطابق  فاسٹ فارورڈ بھی  کر لیا جاتا  ھے۔ 
لفظ پاکستان کے خالق چوھدری رحمت علی کے مطابق "پ" پنجاب سے "الف" افغانیہ سے "ک" کشمیر سے، "س" سندھ سے اور "تان" بلوچستان سے لے کر ایک نام تخلیق کیا گیا جسے  پاکستان کا نام دیا گیا۔ ان تمام حروف کی ترتیب بدل دی جائے یا کوئ حرف حذف کر لیا جائے  تو پاکستان لفظ  کا وجود  خطرے میں پڑ جاتا ھے ۔ شاید یہ چوہدری رحمت علی خان صاحب کی دور بینی ہی تھی جو  بنگال کو لفظ پاکستان میں شامل نہیں کیاکہ مبادا مستقبل کے حالات کے پیش نظر لفظ پاکستان کی سالمیت خطرے میں پڑ جائے۔ اور دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ اس مرد قلندر کی مستقبل شناسی کی وجہ سے بنگال کے علیحدہ ھونے کے باوجود  "لفظ"  پاکستان کی سالمیت پر کوئ آنچ نہ آ سکی ویسےبھی بنگال کی تو لفظ پاکستان میں کوئ گنجائش بنتی ہی نہ تھی۔ اب اگر ان تمام حروف جن سے مل کر پاکستان بنا ھے  "پ"  پنجاب کے علاؤہ افغانیہ، سندھ، بلوچستان، اور کشمیر کے حالات کو اگر دیکھا جائے تو ان میں محرومیوں کے آثار زیادہ  پائے جاتے ہیں۔ یہاں کی عوام کسی نہ کسی شکل میں حکومت یعنی  "پ " سے خائف ہی رہتے ہیں۔ ان علاقوں کی محرومیوں کا اندازہ وہاں پر موجود عوامی کو دی گئ  سہولیات سے بخوبی لگایا جا سکتاھے۔ بلوچستان اور سندھ کے بیشتر علاقے تو اب بھی سولہویں صدی میں جی رہے ہیں۔ یہ  وہ علاقے ہیں جو پاکستان کے براہ راست کنٹرول میں ہیں لیکن بقول مطالعہ پاکستان ایک حرف "ک" کشمیر جو اسکے براہ راست کنٹرول میں تو نہیں لیکن اسے شہہ رگ کی حیثیت حاصل ہے اور حالت یہ ھے کہ آدھی سے زیادہ شہہ رگ پر ھندوستان کا قبضہ ھو چکا ھے۔اب اگر چوھدری رحمت اللہ صاحب کے فلسفہ لفظ پاکستان کو مد نظر رکھا جائے تو تصویر کچھ یوں بنتی  ھے کہ "ک" یعنی کشمیر کی دم تو ھندوستان نے کاٹ لی ھے پیچھے دم کٹا "ک" رہ گیا ھے۔ یعنی۔ چوہدری  صاحب کا فلسفہ  پاکستان سے شروع ہو کر  پالستان تک آن پہنچا ھے۔ اب مستقبل میں اس فلسفہ کیساتھ کیا کیا ھونا ھے یہ مطالعہ پاکستان کی ٹائم  مشین  بنانے والوں پر منحصر ہے کہ وہ اسے کتنا فاسٹ فارورڈ کرسکتے ہیں۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ  شہہ رگ کے بغیر کسی بھی وجود کا زندہ رہنا ناممکنات میں سے ہے۔ یا تو ہمیں یہ تسلیم کرنا ھو گا کشمیر شہہ رگ نہیں ھے ، یہ آدھی ہو ، پوری ھو یا پھر نہ ھو اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا،  یا  یہ کہ لفظ پاکستان کا فلسفہ اب اتنا جاندار نہیں رہا، یا پھر یہ کہ یہ ایک من گھڑت بات ہے ۔ 
 مسئلہ کشمیر جو گزشتہ 71 سالوں سے ابھی تک حل طلب ھے۔ اس دوران پاکستان اور کشمیر کےلوگوں نے کتنے نشیب و فراز دیکھے لیکن یہ قضیہ جسے شہہ رگ بھی کہا جاتا ھےمزید الجھتا ہی گیا۔ آج یہ حالات ہیں کہ بھارت نے کشمیر کو باقاعدہ اپنا حصہ بنا لیا ھے لیکن افسوس کہ شہہ رگ کا راگ الاپنے والوں کو اپنی شہہ رگ کٹ جانے کا احساس تک نہیں ھوا۔ 
ایک وقت ایسا بھی تھا کہ جب کشمیر میں لوگ اپنا  تن من دھن پاکستان کے لیے قربان کرنے کو تیار تھے لیکن وقت کے تھپیڑوں نے آہستہ آہستہ لوگوں  کے دلوں میں ایک متبادل سوچ  کو جنم دیا جو خود مختار کشمیر کی شکل میں سامنے آنا شروع ھوئ۔ یہ سب کیسے ممکن ھوا؟   جو لوگ پاکستان کو اپنا محور مانتے تھے انکے دل میں ایک ازاد اور خود مختار ریاست کا بیج کیسے پیدا ھو گیا؟  یہ لوگ ایک متبادل رستے کے انتخاب پر کیوں مجبور ھوئے۔؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر آجتک مملکت خداد سوچنے اور سمجھنے سے قاصر رہی ھے۔۔ 
ان سوالوں کا جواب تلاش کرنے کے لیے، ہمیں اس محور یعنی مملکت خداد پاکستان  کا تنقیدی جائزہ لینا ھو گا جن سے انکے اپنے لوگ دن بدن خائف ھوئے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے حالات شروع دن سے ہی اس قدر غیر مستحکم رہے ہیں کہ یہ کسی کی کیا خود اپنی مدد کرنے سے قاصر رہا ہے۔ ملک میں ہمیشہ سے ایک طبقہ حاکم چلا آیا ہے اور دوسرا وہ طبقہ ہے جو انکے رحم و کرم پر زندگی گزارنے پر مجبور ھے جسکا بڑا حصہ عوام پر مشتمل ہے۔ یہ حاکم طبقہ محکوم  طبقے کی کبھی مذھب کے نام پر اور کبھی وطن کے نام پر گاہے بگاہے برین واشنگ کرتا رہتا ھے تا کہ   کسی نہ کسی شکل میں اپنی اجارہ داری قائم  رکھ سکے۔ اس عمل کے لیے مفاد پرست عناصر اس حاکم طبقے کے تلوے ہر وقت چاٹنے پر مامور رہے تا کہ انہیں بھی اس میں سے بقدر ضرورت حصہ عنایت فرمایا جائے۔
 مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پاکستان کی کاوشوں کا اگر جائزہ لیا جائے تو پاکستان جس نے ہمیشہ ھر فورم پر مسئلہ کے حل کے لیے  اقوام متحدہ کی قراردادوں پر ہمیشہ "کہنے کی حد تک"  زور دیا۔  پاکستان  نے چار جنگیں کشمیر کے نام پر  تو لڑ لیں لیکن  اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے سے پس وپیش سے کام لیا جاتا رہا۔ حکمرانوں کے اس رویہ سے حکومت پاکستان کا کشمیر سے والہانہ عشق کا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ھے۔ حالت یہ ھو چکی ہے کہ شہہ رگ کا راگ الاپنے والوں کی شہہ رگ تو کٹ چکی ھے مگر وہ پھر بھی کس قدر کمال ہوشیاری سے زندہ ہیں یہ کوئ ان سے سیکھے۔ 
بحیثیت کشمیری آج اگر پاکستان کے حالات پر نظر دوڑائ جائے تو  معلوم ھو گا کہ ایسے حالات میں کسی بھی قسم کے  مستحکم مستقبل کی ضمانت نظر نہیں آتی ۔  ایک عام   کشمیری بھی یہ سوچنے پر مجبور ھو چکا ھے کہ کب تک ہم اس نظام کا حصہ بننے کی سعی لا حاصل کرتے رہیں گے جو اندر سے کھوکھلا ھو چکا ھے۔ کشمیر کو آزاد دیکھنے والے کشمیری اب ان بے تعبیر خوابوں اور نظام سے تنگ آ چکے ہیں، اور ریاست کی  مکمل آزادی کا خواب دیکھنے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ھوتا جا رہا ھے جن میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ھے، یہ وہی نوجوان ہیں جو آنے والے کل میں  کشمیر کا مستقبل بنیں گے۔  خودمختار کشمیر کی بات کرنے والے لوگوں کی سوچ صرف کشمیر کی خودمختاری پر ہی محیط نہیں ھے بلکہ وہ اسکے ساتھ ساتھ  ایک ایسی ترقی پسند سوچ کے بھی قائل ہیں جہاں جمھوری حکومتیں برادریوں، وڈیروں اور ان دیکھی مخلوق کے دم پر نہیں بلکہ خالصتاً عوام کے ووٹ کی طاقت پر قائم ھونگی،  منافقانہ نظام کا خاتمہ  ھو گا، جہاں پر لوگوں کے حقوق کو غصب نہیں کیا جائے گا بلکہ سب کو آگے بڑھنے کے یکساں مواقع اور حقوق حاصل ہوں گے اور جہاں ایک مزدور کو بھی ایک با عزت زندگی گزارنے کا حق مل سکےگا۔ 
آج جو لوگ الحاق پاکستان کی بجائے خودمختار کشمیر کی بات کرتے ہیں وہ پاکستانی حکام کے منافقانہ اور متعصبانہ نظام سے تنگ آ چکے ہیں۔ انہیں جب سندھ ، بلوچستان اور پشتونوں  کے حالات نظر آتے ہیں تو وہ بھی  کشمیر کے پاکستان سے الحاق  سے  کچھ زیادہ پر امید نظر نہیں آتے۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں قوم پرست  اپنی قومی آزادی اور ترقی پسندانہ نظریات کی بات پہلے سے زیادہ کھل کر کر رہے ہیں۔