Wednesday, 13 March 2019

گڈ بائے مسٹر چپس

گڈ بائے مسٹر چپس


اس سے پہلے کہ مسٹر چپس کے ناول کی جگہ سیرت رسول صلعم سے متعلق انگریزی مضامین انٹرمیڈیٹ کے نصاب میں شامل کیے جانے پر بات کی جائے، ایک آئیڈیل  تعلیمی نظام کو سمجھنا نہایت ضروری ھے۔  
تعلیمی نظام کا ابتدائ مقصد انسان کو شعور دینا اور اسے اس قابل بنانا ھے کہ وہ اپنی تعلیمی قابلیت سے  ایک کامیاب زندگی گزار سکے۔ دنیا کی ترقی یافتہ عوام کو  یا  برطانوی تعلیمی نظام جس میں ھم خود رہ رہے ہی  اسی کو دیکھ لیں۔یہ ایک بچے کی زہنی نشونما کرنے کے ساتھ ساتھ اسے  میدان  عمل کے لیے بھی تیار کرتا ھے۔  یہ تعلیمی نظام اس بات کو یقینی بنانے کی حتی الوسع کوشش کرتا ھے معاشرے میں رہنے کے اعلیٰ اقدار بچے کو سکھائے جائیں تاکہ وہ ان پر عمل پیرا ھو کر ایک مثالی شہری کے طور ا پنا کردار ادا کر سکے۔ ایک واقعہ سے شاید یہ بات زیادہ واضح ھو جائے، میری بیٹی جسے پاکستان میں۔ ایک سال سکول میں پڑ ھنے کا اتفاق ھوا،نے ایکدن مجھے کہا کہ سکول میں ایک بچی اسے تنگ کرتی ھے اور تھپڑ بھی مارا ہے۔ میں نے اسے کہا کہ تم بھی اسے تھپڑ مار دیتی، تو اسنے کہا کہ 
Papa، two wrongs don't make a  right ۔ 
اب اگر دیکھا جائے تو بچی نے یہ بات برطانیہ کے جس نظام تعلیم سے سیکھی تھی یہ اس کا کمال تھاکہ وہ اس پر عمل  پیرا بھی تھی۔   
 ہم اگر بات کریں  پاکستان بشمول آزاد کشمیر کے نظام تعلیم کی تو وہ یورپی نظام تعلیم سے کوسوں دور ہے۔ ہمارے ہاں کے نظام تعلیم میں بچے پر کتابیں لاد دی جاتی ہیں اسے رٹے لگوا لگوا کر امتحان پاس کروائے جاتے ہیں۔ میرے خیال میں ایسی تعلیم کا عملی زندگی سے کوئ لینا دینا نہیں ھوتا۔ 
بات چلی تھی مسٹر چپس کی بجائے سیرت رسول صلعم کو انٹرمیڈیٹ کے انگریزی مضامین میں شامل کرنے کی۔ ہمارا سب سےبڑا المیہ ہے کہ ہم نے سیرت مصطفٰی صلعم کو صرف رٹا مار کر یاد کیا ھے تاکہ اگلی جماعت میں داخل ہو سکیں لیکن افسوس کہ ہمارا عملی زندگی میں اس سے
کچھ واسطہ نہیں۔
سوال یہ ہے کہ جو لوگ اردو زبان میں سیرت رسول صلعم کو پڑھ کر بھی سمجھ نہ سکیں اور عملی طور پر اس سے میلوں دور ھوں کیا وہ لوگ انگلش میں سیرت مصطفٰی صلعم کو پڑھ کر اسے سمجھ کر اپنی زندگیاں اسکے مطابق ڈھال سکیں گے؟. یا پھر رٹا مار کر صرف امتحان پاس کرنے پر ہی زور ھو گا؟.
 مسٹر چپس اگر  نصاب میں شامل ھے تو اسکی صرف ایک ہی وجہ ہے، وہ یہ کہ انگریزی زبان کا مروجہ نظام تعلیم  میں شامل ھونا ہے۔ ھمارے نظام تعلیم میں انگریزی زبان کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ کوئ بھی زبان سیکھنے اور اس ہر دسترس حاصل کرنے کے لیے اسکے صحیح صرف و نحو، شاعری، اور ادبی مشاہیر سے آشنائی لازمی ھوتی ھے۔ کسی زبان میں اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کے لیے اس زبان کے محاورات سے  شناسائی اور ان پر عبور ھونا چاہئے اور یہ اسوقت ہی ممکن ہے جب آپ اسکے ادب کو بھی باقاعدگی سے پڑہیں گے۔ بالکل ویسے ہی  جیسے ہم اردو سیکھتے ہیں تو ہم اردو میں لکھے گئے شہرہ آفاق ناول اور ادبی پاروں کو بھی پڑھتے ہیں تا کہ زبان دانی پر عبور ھو سکے۔۔
اگر کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مسٹر چپس کی بجائے سیرت رسول صلعم کو نصاب میں شامل کیا جائے تا کہ لوگ اس مستفید ھوں  تو بصد احترام کیا جائے لیکن ایک غیر زبان میں ہی کیوں ؟ کیوں نہ سیرت رسول صلعم کے مضامین کو انگلش کی بجائے عربی مضامین کے ساتھ شامل کیا جائے۔ کیو نکہ عربی زبان ہی اسلام کا اصل منبع ھے اور ایک مسلمان کو عربی پر عبور ھونا چاہئے تا کہ وہ حدیث، قرآن اور سیرت رسول صلعم کا صحیح طور پر مطالعہ کر سکے اور اسکی عملی زندگی میں بھی قرآن و سنت کی
جھلک دیکھنے کو ملے۔ ۔
قارئین میری اس تحریر سے اختلاف رائے  کا پورا حق رکھتے ہیں۔ شکریہ 

Tuesday, 12 March 2019

میجر جنرل آصف غفور کی نصیحت

 جنرل آصف غفور کی نصیحت
Pic.courtesy news18


 کچھ مہینے پہلے ڈی جی ائ ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا پاکستانی میڈیا برادری کو مخاطب کرتے ھوئے یہ بیان سامنے آیا کہ  " آپ ملک سے متعلق چھ ماہ کے لیے مثبت خبریں شئیرکریں " انکا یہ بات کہنے کا مقصد اسلیے تھا کہ اگر چھ ماہ تک  ملکی حالات حاضرہ سے متعلق مثبت خبریں شئیر کرنے سے ملک کے اندرونی خلفشار اور ہیجانی کیفیت میں  کمی آئے گی اور بیرون ملک پاکستان کا امیج اچھا ھونے سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر اور سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن ھو سکتا ھے۔ 

جنرل آصف غفور کی یہ نصیحت صرف میڈیا ھاوسز کے لیے نہیں تھی بلک سوشل میڈیا پر ایکٹو ان فیک اکاؤنٹس چلانے والوں کے لیے بھیذ تھی جو اسوقت ملک میں بدامنی کو پھیلانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔  اب رہی بات مثبت خبروں کی تو سانحہ ساہیوال تو مثبت خبر ھونے سے رہا۔ملک میں پنپنے والی  بےضابطگیاں اور نت نئے سکینڈلز کی پردہ پوشی کرنا،  ایسے عناصر کی معاونت کرنے کے سوا اور کچھ نہیں کہلایا جا سکتا۔ 

امثبت خبروں کی دوڑ میں کہ جہاں انڈین پائلیٹ کو امن  جیسچر کے طور پر رہا کرنے کی خبریں ھر میڈیا چینل پر سر گرم رہیں اور پاکستان نے عالمی برادری سے خوب داد وتحسین وصول کی،  وہاں ہی کنٹرول لائن پر انڈین گولہ باری سے مرنے والے لوگوں کی خبریں ایک منفی یا غیر مثبت خبر کے زمرے میں شامل ھو نے لگیں۔۔ کنٹرول لائن پر مسلسل فائرنگ اور گولہ باری سے جانی و مالی نقصان کنٹرول لائن کی دونوں جانب ھو رہا ھے اور اسکا مسلسل نشانہ کنٹرول لائن پر دونوں اطراف میں بسنے والے کشمیری بن رہے ہیں۔ لوگ اس گولہ  باری سے اس قدر تنگ آ چکے ہیں کہ وہ اپنے گھروں پر امن کا سفید پرچم لہرانے پر مجبور ھو گئے ہیں تاکہ دونوں افواج کو پیغام جا سکے کہ ہم بھی امن کے خواہاں ھیں۔ کنٹرول لائن پر انڈین افواج فائرنگ کریں یا  پاکستانی افواج جوابی کاروائی کریں، اگر اس منظر کو ڈرامائی انداز میں دیکھا جائے تو کشمیریوں کو جو رول ادا کرنے کو دیا گیا ہے وہ انایکسٹراز ، اداکاروں کا ھے جنھیں دوران جنگ  ہر حال میں مرنا ہی ھوتا ہے۔  کہانی آگے چلتی ہے اور یوں کہانی میں نئے کردار مرنے کے لیے شامل کر دئیے جاتے ہیں۔  

اس جنگی ماحول سے تنگ ا کر اھل علاقہ کی طرف سے دونوں اطراف میں بڑھتی ہوئ کشیدگی اور گولہ باری  کو روکنے کے لیے اوازیں بلند ھونا شروع ھو چکی ہیں جنکی گونج سوشل میڈیا تک سنائی دینے لگی ہے۔  لیکن افسوس کہ کنٹرول لائن پر کھیلی جانے والی خون کی ھولی نہ تو  مثبت خبر بن سکی  اور نہ ہی کنٹرول لائن پر لاشیں اٹھانے والے امن کے متلاشی کسی مثبت خبر کی زینت بن سکے۔ 

Sunday, 17 February 2019

عالمی برادری کیا کرے؟ کشمیریوں سے ھمدردی یا انڈیا سے تعزیت




کچھ دنوں پہلے برطانیہ میں مسئلہ کشمیر کے حل۔کے لیےاور کشمیریوں میں بھارتی مظالم کے خلاف کشمیرکانفرنس منعقد کی گئ جسمیں آزاد کشمیر کی تقریباً تمام سیاسی شخصیات  نے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں   برطانوی پارلیمنٹرینز کے سامنے کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی قلعی کھول کر  برٹش پارلیمنٹیرینز سے کشمیریوں کے لیے ہمدردی کی راہ ہموار کی۔ یہ کانفرنس اس لحاظ سے بھی اہم تھی کہ بھارت کے دباؤ کے۔ باوجود برٹش گورنمنٹ نے اس کانفرنس کے انعقاد کے حق میں حمایت کی ۔
اس کانفرنس کا انعقاد یقیناً ایک بڑی کامیابی سمجھا جا رھا ھے کیونکہ اسکے نتیجے میں مظلوم کشمیریوں پر بھارتی جارحیت کو کھل کر سآمنے لایا گیا۔  ابھی نہتے کشمیریوں کے ساتھ بر طانوی پارلیمنٹیرینز کی ھمدردی شرع ہی ھوئ تھی کہ پلوامہ خود کش حملے کی خبر آگئ اور برطانوی پارلیمنٹرینز اس کشمکش میں مبتلا ھو گئے کہ انڈیا کے ساتھ اظہار تعزیت کریں کہ کشمیریوں سے ھمدردی۔ 
اس حملے کے رد عمل کے طور پر انتہا پسند ہندو تنظیموں کو کھلی چھٹی بھی مل گی کہ وہ جو چاہے کریں۔ نتیجتاً ان شر پسندوں نے جموں میں ۔مقیم مسلمانوں کی املاک کی توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ مسمانوں کو زدو کوب کیا گیا انکی گاڑیوں، دکانوں وغیرہ کو نظر آتش کیا گیا اور یہ سلسلہ   بھی تک جاری ہے۔  اسمیں۔ کوئ شک نہیں کہ انڈین فوج پر ھونے والے حملے انڈیا کے کشمیر پر غاصبانہ قبضے اور مظالم کے نتیجے میں کشمیریوں کی طرف سے کیے جا رہے ہیں۔ ان حملوں میں زیادہ تر وہی نوجوان شامل ھوتے ہیں جو خود یا اپنے خاندان کو بھارتی افواج کے ظلم و جبر کا نشانہ بنتے دیکھتے ہیں۔کشمیری نوجوانوں کا بھارتی ظلم کے خلاف جہاد کو ایک درست عمل تو کہا جا سکتا ھے مگر جب اس جدو جہد میں  ایسی تنظیمیں جنھیں دنیا دہشت گرد تنظیمیں مانتی ہے شامل ھو جائیں یا انکا نام آنا شروع ھو جائے تو عالمی برادری کی نظر میں  اس حق  کی تحریک کے بارے میں کچھ شقوق و شبہات  جنم لینا شروع ھو جاتے ہیں  اور بھارت کی طرف سے پاکستان پر دہشت گردی کو ھوا دینے کے الزامات پر   وک مسئلہ کشمیر میں عدم دلچسپی  لیتے ہوئے اسے ایک دہشت گرد تحریک سے جوڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ 
قارئین میرے نقطئہ نظر سے اختلاف کرتے ھوئے یہاں اپنی رائے کا آزادانہ استعمال بھی کرسکتے ہیں۔ شکریہ


Thursday, 6 December 2018

تنازعہ کشمیر کرتار پور راھداری کی عینک سے

کرتار پور راہداری خطے میں امن۔ کی جانب پہلا قدم ھے اسی طرح  دونوں اطراف کے کشمیریوں کو بھی آزادی کےساتھ آپس میں ملنے دیا جائے۔   شوکت بٹ


 سالوں سے جنگ و جدل کی باتیں ھوتی رہی ہیں۔کرتار  پور راہداری امن کی نوید ہے۔ شمس رحمان


کنٹرول لائن کے آر پار منقسم خاندانوں اور مزھبی مقامات کی زیارتوں   کے لیے باشندہ ریاست کو آزادانہ آمد و رفت کی اجازت دی جانی چاہئے۔ علی عدالت/  عاطف توقیر۔


 موجودہ حکومت کا کرتار پور راھداری کھولنے کے حوالے
 سے نہ صرف پاکستان بلکہ انڈیا میں بھی اسکی پزیرائی کی جا رہی ھے اور اس سے عام تائثر لیا جا رہا ھے کہ یہ دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی کو کم کر کے خطے میں پائیدار امن کے لیے انتہائ مثبت قدم ثابت ھو گا۔ لیکن اسکے ساتھ ساتھ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ  پاکستان اور انڈیا کے مابین جو سب سے بڑا تنازعہ چلا رہا ھے وہ مسئلہ کشمیر ھے۔ جب تک مسئلہ کشمیر کو  منصفانہ طور پر حل نہیں کیا جاتا خطے میں پائیدار امن نا پید ہی رہے گا۔  اس حوالے سےکرتار پور راہداری کو مثال بنا کر خطہ کشمیر میں کشیدگی کو کم کرنے  اور اس مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کرنے سے متعلق مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں سے انکی رائے لی گئ۔
شوکت مقبول بٹ نے اپنی رائے دیتے ھوئے کہا کہ کرتار پور راہداری کھولنا نہایت مثبت قدم ہے اس سے بآسانی لوگ انڈیا اور پاکستان میں اپنے مذہبی و مقدس مقامات پر حاضری دے سکتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر پر کنٹرول لائن پر بھی ایسے ہی اقدامات کر نے کی ضرورت ہے تاکہ  دونوں اطراف میں کشمیر کے جو خاندان  گزشتہ پانچ دھائیوں سے آپس میں  کٹے ھوئے ہیں انکو باہم ملنے دیاجائے، آزاد کشمیر میں ہندوؤں کے مقدس مقامات ہیں جن میں بدھ مت کا پرانا مندر شاردہ سر  فہرست ہے ،  کشمیری پنڈتوں کو  بھی اجازت دی جائے کہ وہ آزادی کے ساتھ اپنے مقدس مقامات کی زیارت کر سکیں۔



شوکت بٹ 


عاطف توقیر  نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کرتار پور راہداری کی حمایت کرتے ہیں یہ باالکل صحیح فیصلہ کیا گیا ھے۔ مذھبی حوالے سے مقدس مقامات پر لوگوں کی آمد ورفت کو آسان بنانا چاہئے۔  اسی طرح جموں کشمیر کو لوگوں  کو بھی یہ حق حاصل ھونا چاہئے کہ وہ بھی کنٹرول لائن کے دونوں جانب آزادانہ نقل و حمل کر سکیں اور اپنے بچھڑے ہوئے خاندان سے مل سکیں۔



عاطف توقیر

کونسلر علی عدالت کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر  کے باشندہ ریاست  لوگوں  کو آپس میں ملنے دیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے مقدس مقامات جیسے چرار شریف درگاہ حضرت بل، کشمیر کی سب سے پرانی مسجد خانقاہ معلیٰ، اور دیگر اہل تصوف کے مزارات پر حاضری دینے کے لیے لوگوں کو بلا روک ٹوک جانے دیا جائے اور اسی طرح کشمیری پنڈتوں۔ کو بھی آزاد کشمیر میں مقدس مقامات کی زیارت کے لیے آنے دیا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ انڈیا یا پاکستان کی حدود میں بغیر ویزا کے یہ لوگ نہیں داخل ھو سکتے مگر جہاں تک ازادکشمیر اور مقبوضہ کشمیر  کا سوال ھے ان لوگوں کو بغیر کسی حیل و حجت کے دونوں اطراف میں جانے دیا جائے۔





کونسلر علی عدالت

شمس رحمان نے بھی اپنی رائے میں کہا کہ پچھلے 71 سالوں سے جنگ وجدل کی باتیں ھوتی رہی ہیں اس لحاظ سے کرتار پور راھداری خطے میں امن کے لیے امید کی ایک کرن ہے۔ جہاں تک  ریاست جموں کشمیر کا سوال ھے تو ریاست کو یونائٹڈ نیشن کی طرف سے یہ حق دیا گیا تھا کہ وہ دونوں اطراف میں آزادانہ آ جا سکتے ہیں اور1965 تک ایسا ہی ھوتا رہا لوگ اپنے رشتہ داروں کو ملنے کے لیے آیا جایا کرتے تھے۔ لیکن جب 1965 کی جنگ ھوئ تو اسکے بعد سے یہ سلسلہ منقطع کر دیا گیا جو کہ سراسر کشمیر کے لوگوں کے ساتھ نا انصافی ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ اگر 71 سال بعد کرتار پور کا بارڈر سکھ یاتریوں کے لیے کھل سکتا ھے تو کشمیر میں کنٹرول لائن پر آمد ورفت کو بھی اسی طرح بحال کیا جانا چاہئے جس طرح  1965 سے پہلے ھوا کرتی تھی۔ پاکستان کی جانب سے یہ ایک اچھی شروعات ھے اور اسکو ایسے ہی چلتے رہنا چاہئے۔



شمس رحمان

فریحہ عتیق نے بھی  اپنی رائے میں اس بات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کرتار پور راہداری کو مثال بناتے ھوئے کشمیر میں کنٹرول لائن کو لوگوں کی آمد و رفت کے لیے کھولا جائے تا کہ لوگ اپنی بچھڑے ھوئے خاندانوں سے جب جی چاہے مل سکیں۔ دونوں اطراف میں کشمیر کے باشندہ ریاست کو آزادانہ طور آمد ورفت کی اجازت  ھونی چاہئے



فریحہ عتیق


Sunday, 21 October 2018

فیاض الحسن چوہان کا کشمیریوں کی تضحیک پر عوام کا رد عمل

 

فیاض الحسن چوہان کی میڈیا میں تضحیک آمیز گفتگو پر سوشل میڈیا کا رد عمل


 فیاض الحسن جوہان کی میڈیا میں انتہائی غیر زمہ دارنہ بیان اور  کشمیریوں کی تضحیک پر سوشل میڈیا میں پاکستان، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر سے تعلق  رکھنے والے تمام  کشمیریوں نے اپنا اپنا رد عمل دیا ہے اور وزیر اعظم جناب عمران خان سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ اپنی کابینہ اور پارٹی سے فیاض الحسن جیسے بیوقوف اور بدتمیز شخص کو نکال باہر کریں جو اسوقت حکومت پاکستان  اور پاکستان تحریک انصاف کے لیے بدنامی 

اور پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں۔

اس وڈیو میں فیاض الحسن کے بیان پر سوشل میڈیا سے جو عوام کا رد عمل سامنے آیا ہے اسکو دکھا گیا ہے۔ 


Tuesday, 25 September 2018

Who was Maqbool۔ Dream of Muhammad Maqbool Butt



مقبول بٹ شہید کی زندگی اور جدو جہد کے حوالے سے مختلف لوگوں سے انٹرویو